The Basics of Islam
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس قسم کے انٹرویو تینوں زبان کے سہارا میں بیک وقت چھپتے ہیں۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ہندوستان میں مذہب کی پکڑ سماج سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ صرف جزئی طور پر یہ بات درست ہے۔ آج ابھی ہندوستانی سماج پر مذہب اور روحانیت کی پکڑ کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کٹرواد یہاں زیادہ بڑھ نہیں پاتا۔ ۷۵ سال کی کوشش کے باوجود بھی تک وہ مین اسٹریم نہ بن سکا۔ ٢١| مسٹر ودود ساجد نے ۱۳ جون ۲۰۰۳ کو نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا (اردو) کے لیے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کی بابری مسجد کے مسئلہ سے تھا۔ سوالات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس اشو کو نام نہاد مسلم لیڈروں نے بگاڑا ہے ورنہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔
٢٢| مسٹر وید ویاس اور ان کے ساتھیوں نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو گاندھی سمیتی( (نئی دہلی) کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مہاتما گاندھی نے اخلاقی افکار پر مبنی صحافت کی وکالت کی تھی۔ مگر آزادی کے بعد اس قسم کی صحافت وجود میں نہ آسکی۔ اس کا سبب کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ صحافت ریڈر شپ کے تابع ہوتی ہے۔ جیسی ریڈر شپ ویسی صحافت ۔ اخلاق پر مبنی صحافت کو وجود میں لانے کے لیے پہلے اس کے مطابق ریڈر شپ تیار کرنا ہوگا۔
٢٣| نئی دہلی کے آؤٹ لک میگزین کے نمائندہ مسٹر بھودِیپ کا نگ (Bhavdeep Kang) نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان بابری مسجد کو گفٹ میں ہندوؤں کو دے دیں۔ یہ ایک خیالی تجویز ہے۔ مسلمان مسجد کے مالک نہیں، پھر وہ گفٹ کیسے کر سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اس معاملہ میں ایک فریم ورک بنانا چاہئے۔ فریم ورک بنائے بغیر غیر متعلق باتیں ہوتی رہیں گی اور مسئلہ حل نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues