Al-Risala · November 2003 · page 16

God Almighty made me and threw the mould away.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۶

مثال کے طور پر ان کی زندگی کا ایک سادہ فارمولا وہ ہے جس کو میں پازیٹیو ایڈجسٹمنٹ (positive adjustment) کہتا ہوں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ کسی سے کوئی معاملہ کر رہے ہوں گے اور پھر درمیان میں وہ آدمی ایک مختلف بات کہہ دے گا۔ ایسی حالت میں صغیر اسلم صاحب اس آدمی سے الجھنے کے بجائے یہ کہیں گے کہ چلو، یہ بھی ٹھیک ہے اور پھر ایک لمحے میں بات ختم ہو جائے گی۔ مثلاً اگر میں کسی دن صبح کے وقت ان کے گھر پہنچوں اور وہ میرے لیے اگلے ویک اینڈ (weekend) کا پروگرام بنانے لگیں، پھر میں کہوں کہ مجھے آج ہی شام کو واپس جانا ہے تو وہ فوراً کہیں گے، چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اس کے برعکس اگر میں ان کے گھر جاؤں اور ان سے کہوں کہ مجھے آپ کے ہاں ایک ہفتہ رہنا ہے، تب بھی وہ صرف یہ کہہ دیں گے، چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔

"چلو یہ بھی ٹھیک ہے" کا یہ فارمولا ان کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس ذہنی ٹینشن سے پوری طرح بچے رہتے ہیں جس میں بیشتر لوگ مبتلا نظر آتے ہیں۔ اپنے اس فارمولے کی بنا پر غصہ اور جھنجھلاہٹ، مایوسی اور رُ وُدلی جیسی چیزیں ان کے دل میں جگہ نہیں پاتیں۔ ان کو وہ نعمت پوری طرح حاصل ہے جس کو ذہنی سکون (mental peace) کہا جاتا ہے۔ مثلاً شعبان کی آخری تاریخ کی شام کو میں ان کے یہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگ کسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ درمیان میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں تھوڑی نیند لے لوں۔ اس کے بعد وہ گئے اور تھوڑی دیر سو کر ٹھیک مقرر وقت پر واپس آگئے۔ اپنے ذہن کو غیر ضروری باتوں سے خالی رکھنے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ رات کو سکون کی نیند سوتے ہیں۔

ان کا ہاضمہ ٹھیک کام کرتا ہے۔ وہ اعصابی تناؤ سے بالکل محفوظ ہیں۔ ۶۵ سال کی عمر ہونے کے باوجود وہ جوانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اور یہ سب اس سادہ فارمولے کا نتیجہ ہے کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔

اسی طرح ان کا ایک خیال یہ ہے کہ مخالفانہ باتوں کو برداشت کرنے سے آدمی کے گناہ کم ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم میرے خلاف جتنی زیادہ باتیں کرو گے اتنے زیادہ میرے گناہ معاف

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page