God Almighty made me and threw the mould away.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۷
ہوں گے ۔ چنانچہ وہ اپنے مخالفین کے بارہ میں اطمینان سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ تم میرے خلاف باتیں کر کے میرے گناہوں پر جھاڑو لگاتے رہو ۔ اس فارمولے کا فائدہ ان کو یہ ملا ہے کہ اُن کو کسی شخص کے خلاف نفرت نہیں ہوتی ، خواہ وہ شخص ان کے خلاف کتنی ہی زیادہ نفرت کی باتیں کرنے میں لگا ہوا ہو۔ صغیر اسلم صاحب کے ساتھ وہی مسئلہ ہے جو ہر اس آدمی کے ساتھ ہوتا ہے جو زیادہ ترقی کر جائے ۔ چنانچہ بہت سے لوگ جو ترقی کی دوڑ میں صغیر اسلم صاحب سے پیچھے رہ گئے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کے خلاف حسد میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اس کا اظہار بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے۔
یہ حاسدین اپنے مخالفانہ پروپیگنڈے میں مصروف تھے ۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک دن ان کے پاس ایک شخص آیا اور اُن سے کہا کہ فلاں آدمی آپ کے خلاف ایسی ایسی باتیں کہہ رہا ہے ، اور آپ اس کے جواب میں کچھ نہیں کرتے ۔ صغیر اسلم صاحب نے کسی شکایت کے بغیر معتدل انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ” یہ ان کا پرابلم ہے ، ،میراپرابلم تونہیں “۔ اسی قسم کے سادہ اور فطری اصول ہیں جن کے ذریعہ صغیر اسلم صاحب نے اپنی کامیاب زندگی کی تعمیر کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کامیاب زندگی کا اصلی اور حقیقی فارمولا یہی ہے ۔ جو بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور شاندار اسٹیج پر دکھائی دیتا ہے وہ صرف ایک لیڈری ہے۔ اس قسم کی لیڈری سے کچھ افراد کو شہرت اور عظمت تو ضرور مل جاتی ہے ، مگر یہ کچھ افراد کی ذاتی کامیابی ہے جو انہیں اس قیمت پر ملتی ہے کہ قوم تباہی اور بربادی کا شکار ہو کر رہ جائے ۔
میرے نزدیک صغیر اسلم صاحب جیسے غیر لیڈر افراد ہی اس قابل ہیں کہ انہیں حقیقی لیڈری کا کریڈٹ دیا جائے ۔ صغیر اسلم صاحب نے اپنی زندگی کی تعمیر کر کے دوسروں کو تعمیر کا راستہ دکھایا ۔ اس کے برعکس جو لوگ شہرت اور عظمت کے آسمان پر نظر آتے ہیں ، وہ صرف تخریب کا انعام پانے کے مستحق ہیں ، کیوں کہ باعتبار نتیجہ انہوں نے اس کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام ہی نہیں دیا۔ اور بلاشبہ زندگی کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خارجی حالات کا شکار نہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues