God Almighty made me and threw the mould away.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۸
ہونے دے، وہ خود اپنے اصولوں کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ صغیر اسلم صاحب کے اندر یہ امتیازی صفت ہے کہ وہ وقتی حالات کا اثر قبول نہیں کرتے۔ وہ خود اپنے سوچے سمجھے اصولوں کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نقشہ بناتے ہیں۔
امریکا میں رہنے والے مسلمان عام طور پر یہاں کے کلچر کے مطابق، کوٹ پتلون کا لباس اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر صغیر اسلم صاحب یہاں بھی زیادہ ترکرتہ اورشلوار پہنتے ہیں۔ یہاں اکثر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کی طرف سے انٹرٹینمنٹ کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں قوالی، مشاعرہ، رقص وسرود جیسے تفریحی آئٹم ہوتے ہیں۔ لوگ مہنگے ٹکٹ لے کر بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر صغیر اسلم صاحب ایسے پروگرام میں شرکت نہیں کرتے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے ٹکٹ لا کر انہیں دے دے تب بھی وہ وہاں نہیں جاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ اپنی با اصول شخصیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ مگر یہاں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس بے اصولی سے بچے ہوئے ہوں۔
اسی طرح شادیوں کی دھوم جو ہندوستان اور پاکستان میں ہوتی ہے وہ مزید اضافہ کے ساتھ امریکا میں بھی موجود ہے۔ مگر صغیر اسلم صاحب اس معاملہ میں بھی اپنی انفرادیت کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں کے عام مسلمان اپنی شادیوں کی تقریبات بڑے بڑے ہوٹلوں یا کمیونٹی سینٹر میں نہایت مسرفانہ انداز میں کرتے ہیں۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنی بڑی لڑکی کی شادی خود اپنے گھر پر کی اور سادہ انداز میں اُس کو انجام دیا۔
شادیوں کی دھوم کے معاملہ میں ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان اگر بدعت میں مبتلا ہیں تو امریکا کے مسلمان بھی اس معاملہ میں سپر بدعت کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں اس معاملہ میں تین رسمیں یکساں شان وشوکت کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے منگنی، جس میں پوری دھوم کے ساتھ ہونے والے شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد نکاح کی تقریب ہوتی ہے جس میں دوبارہ تمام رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد رخصتی کی رسم ادا کی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues