God Almighty made me and threw the mould away.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۹
جاتی ہے۔ جس کی مسرفانہ دھوم کو دیکھنا کسی صاحب ذوق آدمی کے لیے ایک سزا سے کم نہیں۔ عجیب بات ہے کہ اسی امریکامیں یہاں کے عیسائیوں کی اکثریت نہایت سادگی کے ساتھ اپنی شادی کی تقریب ادا کرتی ہے۔ مگر اسی ملک میں مسلمانوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ برصغیر ہند کے مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر یہی مسلمان ہندوستان اور پاکستان میں اور اسی طرح باہر کے ملکوں میں شادی کے معاملہ میں ہندوؤں کی رسموں کو مزید اضافہ کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں۔
۲نومبر۲۰۰۰کومیں امریکامیں تھا۔ مجھ کو بتایا گیا کہ آج فلاں مسلمان کے لڑکے کی منگنی کی رسم ایک کمیونٹی سینٹر میں ہورہی ہے۔ لوگوں کے کہنے کی بنا پر میں بھی وہاں چلا گیا۔ میرا مقصد اس کو دیکھنا تھا نہ کہ شرکت کرنا۔ وہاں یہ معلوم کر کے روحانی تکلیف ہوئی کہ عام قسم کی مسرفانہ دھوم کے علاوہ وہاں رقص و سرود بھی ہورہا تھا۔ حتی کہ ہونے والے شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی۔ مزید یہ کہ یہ رمضان کے مہینہ کی پہلی رات تھی۔ میں نے کہا کہ رمضان کے استقبال کا کیسا انوکھا طریقہ ہے جس کو یہاں کے مسلمانوں نے اختیار کیا ہے۔
صغیر اسلم صاحب اس طرح کی فضول رسموں سے بڑی حد تک بچے ہوئے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنی با اصول شخصیت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہیں۔
۱۹۸۷ء کی بات ہے، صغیر اسلم صاحب کی بڑی صاحب زادی صائمہ پروین اسلم امریکن نرسری اسکول سے پڑھ کر آئی۔ گھر واپس آکر بچی کی زبان سے ایک لفظ نکلا۔ یہ ایک گندا لفظ تھا جس کو اس نے اسکول میں سنا تھا۔ صغیر اسلم صاحب نے جونہی بچی کی زبان سے یہ لفظ سنا تو فورا ان کو احساس ہوا کہ ہماری قوم کے چھوٹے بچے جو سیکولر اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں وہ وہاں نہایت غلط تربیت پا رہے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کو ایک ابتدائی اسکول کھولنا ہے جہاں ہمارے بچے بھی پڑھیں اور دوسرے مسلمانوں کے بھی۔
اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی اُس وقت صرف ایک مسجد پر مشتمل تھی۔ پہلے یہاں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues