He will not give up. He is persistent
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۰
مسی چرچ تھا۔ اس کو خرید کر مسجد کی صورت دے دی گئی۔ صغیر اسلم صاحب سوسائٹی کے ذمہ داروں سے ملے اور کہا کہ ہمیں یہاں اپنے بچوں کے لیے ایک اسکول کھولنا ہے۔ اس وقت لوگوں نے اس کو ایک خیالی بات سمجھا۔ کیوں کہ ظاہری حالات کے اعتبار سے سوسائٹی اس پوزیشن میں نہ تھی کہ وہ ایک اسکول کھول سکے۔
صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ یہ مسئلہ وسائل کا نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے لیے یہاں دوسرا کوئی انتخاب ہی نہیں:
We do not have any other choice, we must have a school. صغیر اسلم صاحب کئی ہفتے تک سوسائٹی کے ذمہ داروں کے پاس جاتے رہے اور وہ لوگ ہر میٹنگ میں اسکول کے مسئلہ کو ٹالتے رہے یہاں تک کہ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ آخر کار جب انہوں نے دیکھا کہ صغیر اسلم صاحب اپنا اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں:
He will not give up. He is persistent
انہوں نے کہا کہ اچھا اگلے ماہ ہم اسکول کھول دیں گے۔ اس کے بعد صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ آپ میں سے کتنے لوگ گارنٹی دیتے ہیں کہ آپ اگلے ماہ تک زندہ رہیں گے۔ یہ سن کر تمام لوگ چپ ہو گئے۔ اور پھر کہا کہ ہم اسکول کھولنے کے لیے تیار ہیں مگر ہمارے پاس نہ زمین ہے اور نہ بلڈنگ اور نہ ہی استاذ۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ ہمارے پاس جو محدود جگہ ہے اسی پر ہم اپنا اسکول شروع کر دیں گے۔ اور جہاں تک ٹیچر کا سوال ہے تو میں اور میری بیوی رضا کارانہ طور پر ٹیچر بننے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے بعد ۱۹۸۸ میں مسجد کے ساتھ ہی ایک کمرے میں اسکول کا آغاز کر دیا گیا۔ صغیر اسلم صاحب نے نہ صرف خود بلکہ اپنے احباب کے ذریعہ مسلسل اس اسکول کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم کیا۔ یہاں تک کہ آج وہ ایک معیاری اسکول کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی اپنی مستقل بڑی عمارت ہے۔ آٹھویں کلاس تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ اس میں ۶۰۰ سے زیادہ اسٹوڈنٹ ہیں اور ۲۱ ٹیچر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues