I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۱
کام کر رہے ہیں۔ اب صغیر اسلم صاحب کا اگلا خواب یہ ہے کہ وہ اس ادارہ کو ایک معیاری اسلامک یونیورسٹی بنا دیں۔ اور حالات جس طرح ترقی کر رہے ہیں، بظاہر ایسا ہونا کوئی بعید از قیاس نہیں۔ ۲۹ نومبر ۲۰۰۰ کو مجھے یہ کہانی معلوم ہوئی تو مجھے ایک عرب شیخ کا قول یاد آیا جس نے کہا تھا: رجل ذو همة يحيى الأمة (ایک باہمت آدمی پوری قوم کو زندہ کر دیتا ہے) حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا کام ہمیشہ ایک ہی آدمی کرتا ہے۔ بڑا کام کرنے کی شرط یہ ہے کہ انسان کے دل میں اس کی آگ لگ جائے ۔ اس قسم کی آتشیں تڑپ کسی ایک فرد ہی میں پیدا ہوتی ہے نہ کہ انسانوں کے کسی مجموعے میں۔ تڑپ اور لگن والے ایک انسان کا وجود میں آنا اس بات کی ضمانت ہے کہ افراد اور وسائل اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ ان کو لے کر ہیروانہ انداز میں اپنے خواب کو واقعہ بنا سکے۔ ۱۹۹۲ کا واقعہ ہے۔ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی میں عید کا اجتماع تھا۔ تقریباً تین ہزار مسلمان موجود تھے۔ صغیر اسلم صاحب نے سوسائٹی کے چیرمین کی حیثیت سے تقریر کی۔ اپنی تقریر کے درمیان انہوں نے کہا کہ امریکا ہم کو اپنے دین کے کام کے لیے ایسے مواقع دیتا ہے جو اس وقت کسی دوسرے ملک میں نہیں، حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی موجود نہیں۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں۔
I am proud to be an American Muslim.
اس تقریر کے بعد کچھ حاضرین صغیر اسلم صاحب سے سخت ناراض ہوئے۔ کچھ نے کہا کہ آپ امریکا کے پٹھو ہیں۔ آپ ایک نان مسلم ملک کی تعریف کر رہے ہیں۔ آپ اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے صغیر اسلم صاحب کو پکڑ کر ان کا گلا گھونٹ دینا چاہا اور کہا کہ تم سوسائٹی کے چیرمین بننے کے قابل نہیں ہو۔
یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ میں نے انڈیا میں ایسے بہت سے مسلمان دیکھے ہیں جو امریکا سے نفرت کی باتیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک امریکا ہر قسم کی برائیوں کا اڈہ ہونے کے علاوہ اسلامی ملکوں کا دشمن بھی تھا۔ اس کے باوجود ان کا حال یہ ہوا کہ پہلا موقع ملتے ہی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues