I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۲
انہوں نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو امریکا بھیج دیا۔ میں حیران ہوں کہ یہ کردار کی کون سی قسم ہے۔ لوگوں کو یا تو امریکا کی برائی نہیں کرنا چاہیے یا اگر وہ اس کو برا بتاتے ہیں تو اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر امریکا میں نہیں کرنا چاہیے۔
صغیر اسلم صاحب کا مکان مسجد سے قریب ہے۔ ۲ رمضان کی شام کو ہم لوگ مسجد گئے۔ وہاں عشاء کی نماز اور تراویح کی نماز پڑھی گئی۔ یہاں کی تراویح ہندوستان کی تراویح سے بہت مختلف تھی۔ لوگ اپنے آپ نظم کے ساتھ صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ قاری نے ترتیل کے ساتھ قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کی۔ داخلی لاؤڈ اسپیکر کا انتظام بہت اچھا تھا۔ نماز کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہا گیا۔ میں نے نماز کے بعد مختصر درس دیا۔
میں نے کہا کہ تراویح در اصل تہجد کی جماعتی صورت ہے جس کو لوگوں کی سہولت کی خاطر مقدم کر کے عشاء کے بعد رکھ دیا گیا ہے۔ تہجد کی نماز کو قرآن میں نافلہ کہا گیا ہے۔ یعنی مزید نماز۔ یہی تراویح کی حیثیت بھی ہے۔ تراویح کا اصل مقصد یہ ہے کہ عبادت کی حالت میں قرآن کو سننا، تا کہ وہ زیادہ مؤثر ہو سکے۔
میں نے دیکھا کہ آٹھ رکعت پوری ہونے کے بعد تقریبا نصف نمازی مسجد سے چلے گئے۔ میں نے کہا کہ تراویح میں اصل چیز رکعت نہیں بلکہ قرآن کو سننا ہے۔ میں ذاتی طور پر ۲۰ رکعت کے بجائے آٹھ رکعت کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ مگر ایسا کرنا درست نہیں کہ ایک مسجد جہاں ۲۰ رکعت کی تراویح ہو رہی ہو آٹھ رکعت پڑھ کر آپ وہاں سے چلے جائیں۔ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بقیہ حصہ کو آپ نے نہیں سنا۔ جو لوگ آٹھ رکعت کی صورت میں تراویح پڑھنا چاہتے ہوں انہیں اس کا علیحدہ انتظام کرنا چاہیے اور آٹھ رکعت کی شکل میں پورے قرآن کو سننا چاہیے۔ اس معاملہ میں جو انتخاب ہے وہ صرف آٹھ رکعت یا بیس رکعت میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ آپ یا تو آٹھ رکعت میں پورا قرآن سنیں یا بیس رکعت میں پورا قرآن سنیں۔ اس معاملہ میں کوئی تیسری صورت نہیں۔
صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پچھلے تقریباً۴۵سال کے دوران مسلسل ان کی ڈیلنگ یہاں کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues