I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۳
سفید فام اور دوسرے لوگوں کے ساتھ رہی ہے۔ اس دوران انہیں سفید فام لوگوں کو بہت قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کے سفید فام لوگ بہت دیانتدار (honest people) ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ وہ اپنی ڈیوٹی پوری طرح انجام دیتے ہیں۔ وہ کسی کو دھوکہ نہیں دیتے۔ وہ اپنی غلطی کو فورا مان لیتے ہیں۔ اگر کسی معاملہ میں ان کی رائے پوچھی جائے تو وہ ہمیشہ سنجیدگی کے ساتھ بات سنیں گے اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب دیں گے۔ میں نے اب تک امریکہ کے ۱۲ سفر کئے ہیں اور میں نے اپنے تجربہ کے دائرہ میں صرف چند ایسے مسلمان پائے ہیں جن کو امریکیوں سے نفرت نہ ہو بلکہ وہ ان کو پسند کرتے ہوں ۔ ان میں سے ایک صغیر اسلم صاحب ہیں۔ وہ امریکہ کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور امریکیوں کو اپنی قوم ۔ اس لیے ان کے دل میں امریکیوں کے لیے عزت و احترام کے جذبات ہیں نہ کہ نفرت اور انتقام کے جذبات، جیسا کہ دوسرے اکثر لوگوں کا حال ہے۔
امریکہ میں آج کل ایک ہزار سے زیادہ اسلامک سنٹر ہیں۔ ان میں سے کئی سنٹر میں نے خود دیکھے ہیں اور بہت سے سنٹروں کے بارے میں دوسروں سے معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ میں نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ یہ تمام سنٹر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے سنٹر نہیں ہیں بلکہ وہ سوشلائیزیشن کے سنٹر ہیں۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے مسلمان یہاں کی سوسائٹی میں شامل نہیں ہو پاتے۔ چنانچہ وہ سماجی علیحدگی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔ اس سماجی کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ سنٹر بناتے ہیں۔ یہاں چھٹی کے دنوں میں مرد، عورت اور بچے بڑی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ صغیر اسلم صاحب نے میری اس رائے سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی مسلمان مردوں اور عورتوں سے یہ بات کہا کرتا ہوں کہ آپ لوگ ان سنٹروں میں سوشلائیز کرنے کے لیے آتے ہیں نہ کہ واقعی معنوں میں اسلام کے لیے۔
پھر میں نے کہا کہ اس طبقہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بظاہر نہایت سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام کو ایک کلچر کے روپ میں دیکھتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues