I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۴
اور مسلمانوں کی کلچرل پہچان (cultural identity) کو باقی رکھنے کے لیے وہ اس قسم کے ادارے بناتے ہیں۔
اس قسم کے تصور دین میں بیک وقت دو نقصانات ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نام پر ظاہری دھوم برپا کرنے کے باوجود حقیقی اسلام سے محروم رہتے ہیں۔ انہیں کبھی اصلی اسلام کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کا دوسرا نہایت سنگین نقصان یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کے اندر اپنی دعوتی ذمہ داری کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ وہ نفسیاتی طور پر غیر مسلموں سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان کی ساری سرگرمیاں صرف اپنے لوگوں کے اندر رہتی ہیں۔ ان کے سارے پروگرام اپنے لوگوں کے ساتھ بنتے ہیں۔ غیر مسلموں سے ان کی ملاقات زیادہ سے زیادہ سروس اور بزنس کی نسبت سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سارے روابط اور تعلقات ہمیشہ اپنوں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ غیر مسلم سرے سے ان کا کنسَرن (concern) ہی نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا جذبہ پیدا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
۲۸ نومبر ۲۰۰۰ کو صغیر اسلم صاحب کے مکان پر یہاں کے مختلف تعلیم یافتہ لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً ڈاکٹر حبیب اللہ خاں، صفی قریشی صاحب، ظفر اقبال خاں صاحب، وغیرہ۔ ان لوگوں سے تفصیلی باتیں ہوئیں۔ بعد کو میں نے صغیر اسلم صاحب سے لوگوں کا تاثر پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک سب سے زیادہ خاص بات یہ تھی کہ آج آپ کی گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ اسلام نام ہے—اللہ تعالی کو ڈسکور (discover) کرنا، اس کے لیے سب سے زیادہ محبت ہونا، اللہ کو اپنا سب سے بڑا کنسَرن (concern) بنانا۔
انہوں نے کہا کہ ہر ایک اصولی طور پر اس سے متفق تھا۔ تاہم ہر ایک کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس مقصد کو کس طرح حاصل کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا موقع بروقت ہی آدمی کو حاصل ہے۔ ہر آدمی کے دل میں فطری طور پر یہ جذبہ ہے کہ وہ کسی کو اپنا سب سے زیادہ محبوب بنائے۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اس فطری جذبہ کا مرکز اللہ کے سوا کسی اور کو بنا لیتے ہیں۔ اب ان کو یہ کرنا ہے کہ وہ دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues