I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۵
چیزوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو اپنا مرکز تو جے بنائیں۔ ایک سوال یہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی کیوں کیا۔ اس کی کیا ضرورت تھی کہ انسان جیسی ایک مخلوق دنیا میں آئے۔ وہ امتحانی حالات میں زندگی گزارے۔ اور پھر تھوڑے سے لوگ امتحان پاس کر کے جنت کے حق دار بن جائیں اور بہت سے لوگ ناکام ہو کر جہنم میں ڈال دیے جائیں۔
میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوا کہ وہ ایک ایسی دنیا بنائے جو اللہ کی اپنی ذات کو چھوڑ کر ہر دوسری چیز سے بہتر ہو، یعنی جنت، اور پھر کچھ لوگوں کو یہ موقع دے کہ وہ جنت کی اس معیاری دنیا میں خوشیوں اور راحتوں کی ابدی زندگی گزار سکے۔ اس جنت میں بسانے کے لیے اس نے وہ بہترین نقشہ بنایا جس سے بہتر نقشہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ یعنی انسان کو پیدا کر کے اُسے مکمل آزادی دی جائے اور پھر جو افراد اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ آزادی کے باوجود اللہ کے پابند بن کر رہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بے اعترافی کا اختیار رکھتے ہوئے اعتراف کا ثبوت دیا۔ کسی جبر کے بغیر انہوں نے خود اپنا فیصلہ لے کر صحیح اور مطلوب زندگی گزاری تو ایسے لوگوں کو جنت میں قیام کے لیے منتخب کیا جائے۔ یہاں کا انگریزی روزنامہ لاس اینجلس ٹائمس کا شمارہ (۲۹ نومبر ۲۰۰۰) دیکھا۔ صفحہ اول پر اس میں ایک رپورٹ انسانی دماغ (Brain) پر تھی۔ اس ریسرچ میں برین اسکینگ کی جدید تکنیک (FMRI) استعمال کی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب ان کو کچھ بتایا جائے یا پڑھ کر سنایا جائے تو ان کے دماغ میں کس قسم کی اعصابی حرکات ہوتی ہیں۔
Using a brain scanning technique called Functional Magnetic Resonance Imaging (FMRI) the work does highlight the differences in natural activity between men and women listening to something read aloud. اس ریسرچ کے ذریعہ یہ معلوم ہوا ہے کہ مرد اپنے دماغ کے صرف ایک جانب سے سنتے ہیں جب کہ عورتیں اپنے دماغ کے دونوں سمت کو استعمال کرتی ہیں۔
Research released Tuesday shows that men listen with one side of their brains, while women use both sides.
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues