I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۶
اس ریسرچ میں ۱۰ تندرست مرد اور ۱۰ تندرست عورتوں پر تجربات کئے گئے۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت کے دماغ یقینی طور پر یکساں نہیں ہیں :
They are definitely not the same — in size, sense or sensibilities. ۲۹ نومبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ ڈاکٹر مزمل صدیقی کے گھر گیا۔ انہوں نے افطار پر بلایا تھا۔ وہاں ان کے بیٹے اور داماد موجود تھے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان لوگوں سے دیر تک مفید گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ موجودہ حالات میں آپ کے نزدیک مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مسلمان اگر صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تویقینی طورپر وہ کامیاب رہیں گے۔ اسلام کی اصل طاقت اس کی آئیڈیالوجی (ideology) ہے۔ یہ آئیڈیالوجی فطرت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ہر انسان کو اپیل کرتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ مسلمانہ ن ہر جگہ یا تو نفرت کی باتیں کرتے ہیں یا تشدد کو پھیلاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر مسلم لوگ معتدل انداز میں اسلام پر غور نہیں کر پاتے۔ ایک صاحب نے کہا کہ نفرت کی فضا پیدا کرنے والا موجودہ میڈیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میڈیا ہاٹ نیوز (Hot News) کورپورٹ کرنے کی انڈسٹری ہے۔ اس کو سافٹ نیو ز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ چنانچہ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ لوگ مسلمانوں کی نفرت اور تشدد کی باتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ میڈیا کو برا کہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آپ ہر حال میں پر امن انداز کا طریقہ اختیار کریں تا کہ میڈیا کو یہ موقع ہی نہ ملے کہ وہ آپ کی متشددانہ خبروں کو لے کر دنیا میں آپ کی تصویر کو بگاڑے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر جیسے مقامات پر مسلمانوں کے لیے ایک ہی ممکن حل ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں صورت موجودہ (statusquo) کو قبول کر لیا جائے ۔ ان مقامات کے مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے وہ صورت موجودہ اور تباہی کے درمیان ہے نہ کہ صورت موجودہ یا کسی نئی صورت کے درمیان۔
اس مجلس میں امریکاکے مقبول مقررین، سراج وہّاج اورحمزہ یوسف وغیرہ کا بھی تذکرہ ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues