I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۷
لوگوں نے ان کی تقریر کی تعریف کی۔ ایک نوجوان حمزہ یوسف کو بہت پسند کرتے تھے۔ ایک اور نوجوان سراج وہاج کی بہت تعریف کر رہے تھے۔
میں نے دونوں سے پوچھا کہ آپ لوگ اچھی طرح انگریزی جانتے ہیں اور ان کی بہت سی تقریریں سنی ہیں، آپ بتائیے کہ ان کی تقریر کا مغز (substance) کیا ہوتا ہے۔ یا یہ کہ ان کی تقریر وں سے آپ کو کیا مسیج ملا ہے۔ دونوں نوجوانوں میں سے کوئی بھی اس کا جواب نہ دے سکا۔ پھر میں نے کہا کہ میں نے ان لوگوں کی تقریریں سنی ہیں یا تو براہِ راست یا ریڈیو پر۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کی تقریریں ایک قسم کی ذہنی تفریح (intellectual entertainment) ہوتی ہیں۔ آپ اگر ان کو پسند کرتے ہیں تو پسند کیجیے مگر ان کو داعی نہ کہیے۔ کیوں کہ داعی وہ ہے جو سننے والوں کو کوئی واضح پیغام دے نہ کہ انہیں وقتی طور پر خوش کرے۔
ڈاکٹر صدیقی صاحب کے ہاں سے ہم واپس آئے تو صغیر اسلم صاحب کی صاحبزادی عائشہ پروین اسلم (عمر ۱۶ سال) نے کچھ سوالات کئے۔ میں نے کہا کہ سوال کرنا بہت اچھی عادت ہے۔ پھر میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر صرف یہ جانتے ہیں کہ چیزوں میں صرف دو تقسیم ہے ۔ یا تو وہ حلال ہوں گی یا حرام۔ مگر یہاں ایک اور تقسیم ہے جو اس سے زیادہ اہم ہے اور وہ ہے سطحیَت اور غیر سطحیَت۔
میں نے کہا کہ بہت سی چیزیں ہیں جو شرعی اعتبار سے حرام نہیں مگر ان سے صرف سستی تفریح حاصل ہوتی ہے۔ جو آدمی کسی بلند مقصد کے لیے جینا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے۔ حرام چیز اگر اللہ کی نافرمانی ہے تو سستی تفریح یا سستی لذت کی تفریح اپنے وقت کا ضیاع۔ ۱۹۷۲ کی بات ہے، صغیر اسلم صاحب ایک سفر کے دوران لاس اینچیلیز ایرپورٹ پر تھے ۔ ان کو سان فرانسسکو جانا تھا۔ کہر (fog) کی وجہ سے جہاز لیٹ ہو گیا۔ ائیر پورٹ پر جہاں وہ بیٹھے تھے، پاس کی کرسی پر ایک اور مسافر بیٹھا ہوا تھا۔ تعارف کے دوران اس نے بتایا کہ وہ ڈیرل لیمونکا (Daryl Lamonica) ہے جوکہ کوارٹربیک فارآکلینڈرائڈرس(Quarter
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues