Al-Risala · November 2003 · page 28

I am proud to be an American Muslim.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۸

(Quarter Back For Oakland Raiders) ہے۔ وہ امریکن فٹ بال کی دنیا کا بہت بڑا اور مشہور کھلاڑی ہے۔ ائرپورٹ اور بعد میں ہوائی جہاز کے اندر لوگ اس کے پاس آتے رہے اور جھک کر اُس سے ملتے رہے۔ ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اتنا خوش قسمت سمجھتے تھے کہ وہ ایک بڑے مشہور فٹ بال کھلاڑی سے مل رہے ہیں۔

مگر صغیر اسلم صاحب اُس سے ایک عام انسان کی حیثیت میں ملے۔ اس نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ آپ میری زندگی میں پہلے انسان ہیں جو اس طرح مجھ سے مل رہے ہیں جیسے کہ ایک عام آدمی سے مل رہے ہوں۔ ورنہ میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگ مجھے ہیرو کے انداز میں دیکھتے ہیں اور میرا والہانہ استقبال کرتے ہیں۔ صغیر اسلم صاحب اور ڈریل لیمونکا کا جہاز جب سان فرانسسکو پہنچا تو ڈریل لیمونکا نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ یہ میرا بزنس کارڈ ہے اور گھر کا فون نمبر اس پر لکھ دیا ہے۔ بڑے لوگ عام طور پر گھر کا نمبر کسی کو نہیں دیتے اور کہا کہ جب بھی آپ سان فرانسسکو آئیں تو میرے یہاں ضرور آئیں ۔ میں آپ کو فٹ بال گیم دیکھنے کے لیے پہلی صف میں سیٹ لے کر دوں گا۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ مجھے فٹ بال کے گیم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

وہ صغیر اسلم صاحب کی شخصیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اس نے اپنی کار پر بیٹھا کر ان کو ائرپورٹ سے ان کے ہوٹل تک پہنچایا اور پھر وہ اپنے گھر گیا۔ آخر میں رخصت ہوتے ہوئے اس نے دوبارہ کہا کہ اگر آپ کو فٹ بال سے انٹرسٹ نہیں ہے تب بھی آپ میرے گھر پر آئیں اور کم سے کم ایک وقت کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔

اس طرح کے واقعات صغیر اسلم صاحب کے ساتھ بار بار پیش آئے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک بڑا آدمی ان لوگوں کو اہمیت نہیں دیتا جو اس کی بڑائی کا اعتراف کرکے اس کو زبردست عزت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس صغیر اسلم صاحب جیساآدمی جوسرے سے اس کی بڑائی کا اعتراف ہی نہیں کرتا اس کو وہ اتنا زیادہ قابل توجہ سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ استثنائی طور پر خلوص کا معاملہ کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page