I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۹
اس میں وہ اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھ رہا تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اس سے جو معاملہ کیا اس میں اس کو خود اپنا وجود چھوٹا ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس کو شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس ہوا کہ دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو میری عظمت کو رد کر رہا ہے گویا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ بڑے آدمی کی بڑائی کا اعتراف کرو تو وہ تمہارا ہو جائے گا۔ مگر کسی بڑے آدمی کو جیتنے کا زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کے سامنے بالکل بے غرض بن جائیں اور اس سے ایسا معاملہ کریں جیسے کہ وہ آپ کی نظر میں صرف ایک معمولی انسان ہے نہ کہ کوئی بڑا انسان۔ بشرطیکہ آپ نے سرکشی کی بنا پر ایسا نہ کیا ہو۔
امریکا کے سفر میں مجھے ایک صاحب کے گھر جانا پڑا۔ کھانے کی میز پر انہوں نے کہا کہ میری بیوی بہت اچھا کھانا پکاتی ہے، وہ ہم کو روزانہ لذیذ کھانے کھلاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کسی بیوی کی کوئی اچھی تعریف نہیں۔ بیوی کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ آپ کی زندگی کی ساتھی ہے نہ کہ صرف ایک عمدہ باورچی۔
پھر میں نے بتایا کہ انڈیا میں ایک بار میں ایک صاحب کے ہاں گیا۔ انہوں نے بھی آپ ہی کی طرح اپنی بیوی کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار میں ایک پارٹی میں گیا۔ واپس آیا تو میں نے اپنی بیوی سے پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کھانے کا ہر آئٹم موجود تھا، مگر وہاں آئس کریم نہیں تھی۔ اس وقت رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ بیوی فوراً کھڑی ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ صرف چند منٹ ٹھہریے میں آپ کو ابھی آئس کریم بنا کر کھلاتی ہوں۔ چند منٹ بعد میز پر تازہ آئس کریم کی پلیٹ رکھی ہوئی تھی۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف کھانے کی لذت کو جانتے ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑی ایک لذت ہے اور وہ ذہنی تبادلہ خیال (intellectual exchange) کی لذت ہے۔ اس لذت کو پانے کا سب سے بڑا ذریعہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے جو اس کی سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہے اور ہر وقت اس کے لیے قابل حصول ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues