I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۰
میں نے کہا کہ میں اس کو بھی ایک پیغمبرانہ سنت سمجھتا ہوں۔ آپ حدیث کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ کے اقوال پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک خاتون نے اتنی گہری باتوں کو کیسے جان لیا۔ اس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان وہی چیز بار بار پیش آتی تھی جس کو میں انٹلیکچول ایکسچینج کہہ رہا ہوں۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ (کان یحدثنی) اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ اس سے خیالات زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ نئی نئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ آدمی کے دماغ میں فکری عمل (thinking process) برابر جاری رہتا ہے جو مسلسل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ انٹلیکچول ایکسچینج ہرلینڈ یڈش سے زیادہ لذیذ ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (مگر اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے)۔
۶ نومبر ۲۰۰۰ کو امریکہ کا صدارتی الیکشن ہوا۔ ایک طرف جارج ڈبلیو بش تھے، دوسری طرف الگور تھے۔ جارج بش کے ووٹ صرف چند سو زیادہ تھے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان وہی سیاسی جنگ شروع ہوگئی جو انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں نظر آتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی ہار ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔
ٹھیک یہی معاملہ یہاں ۱۹۵۹ میں پیش آیا تھا۔ اس وقت رچرڈ نکسن (Richard Nixon) اور جان کینیڈی (John Kennedy) کے درمیان مقابلہ تھا۔ نکسن کو چند سوووٹ کم ملے تھے۔ نکسن کو یہ موقع تھا کہ وہ اپنی ہار نہ مانے۔ وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے آپ کو فاتح ظاہر کرنے کی کوشش کرے۔ مگر نکسن نے یہ اعلان کر دیا کہ میں اپنے ملک کے مفاد اور اپنی پارٹی کے نام کے لیے ہار تسلیم کرتا ہوں: I concede it for the sake of my country and my party. کسی سیاسی نظام کی طاقت کا راز یہ ہے کہ اس کے لیڈر اپنی ہار ماننے کے لیے تیار ہوں ۔ جہاں ایسا ہو کہ ہر لیڈر صرف اپنی جیت کا جھنڈا بلند کرنا چاہے وہاں کبھی مضبوط سیاسی نظام نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues