National Conference for Christians & Jews
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۱
امریکہ میں سو سال سے ایک ادارہ قائم ہے۔ یہ ادارہ عیسائیوں اور یہودیوں نے قائم کیا تھا۔ چنانچہ پہلے اس کانام یہ تھا :
National Conference for Christians & Jews
اس ادارہ کا مقصد مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان میل ملاپ قائم کرنا ہے۔ اس کا موٹو یہ ہے: We Open Minds. بعد کو اس کے بانیوں کو خیال ہوا کہ اس ادارہ میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ چنانچہ اس کا نام بدل دیا گیا۔ اس کا موجودہ نام یہ ہے:
The National Conference for Community & Justice
اس تنظیم کی طرف سے ہر سال منتخب افراد کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس کو خدمت انسانیت ایوارڈ (Humanitarian of the Year) کہا جاتا ہے۔ اس ادارہ کی طرف سے پچھلے سال ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کو ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سال جناب صفی قریشی صاحب کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ۳۰ نومبر ۲۰۰۰ کو حیات ریجنسی (اروین، کیلی فورنیا) میں اس کی تقریب منعقد کی گئی۔ یہاں شام کو ڈنر تھا جس میں ہر ایک کو ۲۰۰ ڈالر کا ٹکٹ لینا تھا اور اس کے بعد انعام دینے کا پروگرام تھا۔ صغیر اسلم صاحب وغیرہ کے ساتھ میں بھی اس فنکشن میں شریک ہوا۔ وہاں امریکی معیار کے مطابق، اعلیٰ درجہ کا تعیشاتی ماحول تھا۔ لوگ وہاں کے رنگارنگ پروگرام میں خوب دلچسپی لے رہے تھے۔ قہقہے اور تالیوں کی گونج میں سارا پروگرام انجام پایا۔ مگر میں انتہائی بددلی کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ کھانا بھی میں نے بہت کم کھایا۔ اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے صغیر اسلم صاحب سے کہا: For me it is a jungle of luxuries. I can not enjoy it. یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے انڈیا کے بعض لیڈروں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ مجھے حیوانِ سیاسی (political animal) دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے، مگر امریکہ میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں سے تقریباً ہر شخص مجھے حیوانِ کا سب
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues