Al-Risala · November 2003 · page 32

The National Conference for Community & Justice

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۲

(earning animal) دکھائی دیتا ہے۔ ان لوگوں کا واحد مقصد ڈالر کمانا ہے اور اپنے بچوں کا مستقبل بنانا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس کو زندگی کا کوئی مقصد نہیں سمجھتا۔

اس فنکشن میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک تھیں۔ ایک خاتون کے شوہر نے مجھے ان سے ملایا۔ امریکہ کے پچھلے سفر میں ان صاحب کے گھر پر مجھے کھانے کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہاں ان کی بیگم نے بھی مجھ سے ملاقات کی تھی اور کچھ مسائل دریافت کیے تھے۔ میں نے خاتون سے کہا کہ اس سے پہلے آپ کے گھر پر آپ سے میری ملاقات ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں۔ میرے بارے میں انہیں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مجھے یہ واقعہ بہت عجیب معلوم ہوا۔ اس واقعہ سے میں نے اندازہ کیا کہ ان مسلمانوں کے گھروں میں صرف دنیوی باتوں کا ماحول ہے۔ وہاں دین کا کوئی چرچا نہیں۔ ایک دینی عالم خواہ کسی بھی ملک سے آئے اور لوگوں کو اس کی بات سننے کا موقع ملے تو اس کے بعد گھروں میں اس کا چرچا ہونا چاہیے۔ اس کی باتوں پر ڈسکشن ہونا چاہئے۔ مگر یہاں کے گھروں میں اس قسم کا کوئی ماحول نہیں۔ یہاں کے گھروں میں سوشلاﺌِیزیشن (Socialization) کے چرچے ہیں۔ پارٹیاں کرنا اور پارٹیوں میں جانا ان کی دلچسپیوں کا موضوع بنا رہتا ہے۔ وہ ٹی وی اور مووی (movie) کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ فلمی ہیروئوں اور گیم کے کھلاڑیوں پر تبصرہ کرتے ہیں۔ کوئی دینی عالم ان کے نزدیک اس قابل نہیں کہ وہ ان کے گھر میں چرچا کا موضوع بنے۔ ہوٹل کے اس فنکشن میں اردن کے ایک اسکالر جناب بیشم احمد بندقجی سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران ان سے میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اپنی ایک تقریر میں اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : نحن ابناء الفراعنة سنرميكم في البحر (ہم فرعونوں کی اولاد ہیں، ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) کیا یہ صحیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمال عبدالناصر سے ایک امریکی صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایسا کہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں جمال عبدالناصر نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات مطلق نہیں کہی۔ اگر اس قسم کی کوئی بات ثابت

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page