Al-Risala · November 2003 · page 33

The National Conference for Community & Justice

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۳

ہو جائے تو اس کے بعد آپ جو بھی کہیں میں اس کو کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہشام احمد بندجی نے مزید کہا کہ میں نے خود بھی جمال عبدالناصر سے اس کی بابت پوچھا تھا اور خدا گواہ ہے کہ میں نے خود بھی اپنے سوال کے جواب میں اُن سے یہ بات سنی ہے۔

امریکامیں دوسری قوم کے جو لوگ مثلاً ہندو یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں ان میں بہت سے لوگ ہیں جو اپنی قوم کی خدمت کے لیے طرح طرح کے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہی حال مسلمانوں کا بھی ہے۔ یہاں کے مسلمانوں میں بہت سے لوگ ہیں جو مختلف قسم کے مسلم کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ مثلاً اسکول اور اسلامک سنٹر بنانا۔ سوشلائزیشن کا انتظام کرنا۔ قومی بہبود کی اسکیمیں چلانا۔ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں کے مسلمانوں کی مالی مدد کرنا۔ قومی مصیبت کے مواقع پر ریلیف کا انتظام، کریکولم میں یا میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف باتوں کو دریافت کر کے صحیح معلومات فراہم کرنا، وغیرہ۔

اس قسم کے کام کو کچھ لوگ اسلامی دعوت کہتے ہیں اور ایسے افراد کو اسلام کا داعی، مگر یہ درست نہیں۔ مذکورہ قسم کے کام بجائے خود مفید کام ہیں مگر ان کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے افراد کے لیے میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ کمیونٹی ایکٹی وسٹ (community activist) ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ دوسرے تمام سماجوں کی طرح امریکی سماج میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ مثلاً نسلی تعصب، معاشی نابرابری، یہودی ایکسپلاٹیشن، خارجہ پالیسی میں دہرا پن، وغیرہ۔ بہت سے لوگ ان چیزوں کی وجہ سے امریکی نظام کے خلاف منفی جذبات اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ افراد جب اسلام قبول کرتے ہیں تو اسلام کے اسٹیج کو اپنے جذبات نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مسلمان چونکہ خود بھی اسی قسم کے منفی جذبات میں مبتلا ہیں اس لیے وہ ان نومسلموں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ بلکہ وہ اپنی منفی باتوں سے ان کو اسلامی اور نظریاتی بنا دیتے ہیں۔ اس طرح ان نو مسلم افراد کو فوراً ہی اپنے چھپے ہوئے خیالات کے اظہار کا ایک اسٹیج مل جاتاہے امریکامیں یادوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page