The National Conference for Community & Justice
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۴
مغربی ملکوں میں یہ جو صورتِ حال ہے وہ میرے نزدیک بیک وقت دو برائیوں کا سبب بن رہی ہے۔ ایک یہ کہ نو مسلم افراد کی صحیح ذہنی تربیت نہیں ہو پاتی۔ اور دوسرے یہ کہ یہ لوگ اسلام کے صحیح مبلغ نہیں بن پاتے۔ حالانکہ نو مسلم لوگ ہی ہر دور میں اسلام کے سب سے بڑے مبلغ ثابت ہوئے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ میں نے آپ کی اکثر کتابیں پڑھی ہیں اور زبانی طور پر آپ سے مجھے سننے کا موقع ملا ہے۔ میں نے پوچھا کہ پھر ہمارے مشن کے بارہ میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تاثر آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہی سوال ایک اور شخص نے مجھ سے کیا تو میں نے ان کو یہ جواب دیا:
Maulana Sahab is an Islamic scholar who can interpret things in a modern way without slightest deviation from the Qur’an and Sunnah. موجودہ زمانہ کا ایک عجیب ظاہر ہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان ایسے کام کرتے ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ملی کام ہوتے ہیں مگر وہ اُس کو دعوت کا نام دئے رہتے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کو نماز روزہ سکھاتا ہے اور اس کو دعوت کا کام بتاتا ہے۔ کوئی مسلمانوں کی اقتصادی یا تعلیمی ترقی کے لیے کام کرتا ہے اور اس کو دعوت کا عنوان دئے ہوئے ہے۔ کوئی عوامی رابطہ کے لیے کچھ سرگرمیاں جاری کرتا ہے اور اس کو دعوت کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی مسلمانوں کے ملی تشخص کو محفوظ کرنے کے لیے تقریر و تحریر کا ہنگامہ برپا کرتا ہے اور اس کو دعوت قرار دینے لگتا ہے۔
اس قسم کے کام بجائے خود مفید ہو سکتے ہیں لیکن وہ ہر گز وہ کام نہیں جس کو قرآن میں دعوت کہا گیا ہے۔ دعوت در اصل غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا نام ہے۔ اس کام کی پہلی شرط یہ ہے کہ غیر مسلموں کے خلاف نفرت کے جذبات کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ پھر اس کام کو ملی کام سے بالکل الگ ایک کام کی حیثیت سے چلایا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو نظام کی دعوت کے طور پر نہیں بلکہ آخرت کی دعوت کے طور پر انجام دیا جائے۔
ایک برطانی نو مسلم حامد الگرنے کہاکہ بہت سے لوگ دعوت کے نام پر یہاں ایسے لٹریچر تقسیم
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues