Al-Risala · November 2003 · page 35

The National Conference for Community & Justice

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۵

کرتے ہیں جن میں اسلام کو بہتر سیاسی اور اقتصادی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ انداز سراسر غیر مؤثر ہے۔ امریکا کا انسان تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس جو اقتصادی اور سیاسی نظام ہے وہ مسلمانوں کے نظام سے بہت زیادہ بہتر ہے پھر اس قسم کا انداز ان کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ البتہ ایک اور مقام ہے جہاں مغربی انسان اپنے اندرکمی پاتاہے یہ روحانی خلا (spiritual vacuum) ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام کی دعوت اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسلام کے داعیوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو روحانی انداز میں پیش کریں۔

میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس طرح اسلامی دعوۃ کا کام کر رہے ہیں وہ خود ہی روحانی اسلام سے خالی ہیں۔ وہ سیاسی باتوں کے سواکسی اور بات کو جانتے ہی نہیں۔ روحانی انداز میں اسلام کو پیش کرنے کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کو خود روحانیت کا رزق ملا ہو۔ روحانیت سے محروم لوگ اس کام کو کرنے کے اہل ہی نہیں۔

یہاں میں صغیر اسلم صاحب کے مکان پر مقیم تھا۔ میں اپنے ساتھ سفر میں ہمیشہ پیلو کی مسواک رکھتا ہوں ۔ میں نے باتھ روم میں مسواک کی اور واش بیسن پر اس کو رکھ دیا۔ حالانکہ عام طور پر میں مسواک اپنی جیب میں رکھتا ہوں۔ صفائی کرنے والی خاتون آئی تو اس نے مسواک کو بے فائدہ قسم کا لکڑی کا ٹکڑا سمجھ کر اس کو کوڑے میں ڈال دیا۔ شام کو جب میں نے مسواک کرنا چاہا تو باتھ روم میں مسواک موجود نہ تھی۔

مسواک کو پھینکنا میرے لیے ایک پریشانی کی بات تھی۔ کیوں کہ یہاں عام طور پر برش کا رواج ہے اور میں برش نہیں کر پاتا۔ جو چیز میرے لیے نعمت تھی وہ صفائی کرنے والی خاتون کو کوڑا نظر آئی۔ یہ چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح نا واقفیت ایک صحیح کو غلط اور ایک درست کو نادرست سمجھ لیتی ہے۔ یکم دسمبر ۲۰۰۰ء کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کی مسجد میں پڑھی۔ یہ مسجد ایک چرچ کو خرید کر بنائی گئی ہے۔ مسلمان کبھی اپنی مسجد کو فروخت نہیں کر سکتے۔ خواہ کسی دوسرے مذہب کے عبادت خانے کے لیے ہو یا کسی اور کام کے لیے۔ مگر عیسائی لوگ اپنے غیر آباد

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page