Al-Risala · November 2003 · page 36

The National Conference for Community & Justice

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۶

چرچ کو نہایت آسانی سے فروخت کر دیتے ہیں۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ عیسائی لوگوں میں مذہبی اسپرٹ کی کمی ہے بلکہ یہ عبادت خانہ کے معاملہ میں تصور کا فرق ہے۔ مسیحی تصور کے مطابق زمین یا بلڈنگ کا نام چرچ نہیں ہے بلکہ اس تنظیم کا نام چرچ ہے، جو عبادت کے لیے بنائی گئی ہو: A body of Christians organized for worship and religious work. اس تصور کے مطابق ، کوئی چرچ اسی وقت تک چرچ ہے جب تک اس میں عبادتی تنظیم موجود ہو۔ جب وہاں عبادتی تنظیم باقی نہ رہے تو وہ بلڈنگ چرچ کی حیثیت کھودیتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عام بلڈنگ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر آباد چرچ کو عیسائی لوگ نہایت آسانی سے فروخت کر دیتے ہیں۔

جمعہ کی اذان یہاں کے قاعدہ کے مطابق، مسجد کے اندر ہوئی۔ مسجد کی چھت کے اوپر لاؤڈاسپیکر لگے ہوئے نہ تھے جو اذان کی آواز کو دور تک پہنچائیں۔ یہ ایک علامت ہے کہ کس طرح موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دو قسم کا اسلام دریافت کر رکھا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں اگر مسجدوں کے اوپر سے لاؤڈاسپیکر اتار دیے جائیں تو اسلام خطرے میں پڑ جائے گا مگر امریکا میں کسی مسجد کے اوپر کوئی لاؤڈاسپیکر نہیں۔ اس کے باوجود یہاں اسلام اتنا زیادہ محفوظ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان اس کے منتظر رہتے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور بھاگ کر امریکا پہنچ جائیں۔

امریکا میں مقیم پاکستانی لوگ کئی اردو اخبار نکالتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہفت روزہ اردو ٹائمنز ہے جو نیویارک سے چھپتا ہے۔ اس کا شمارہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۰ دیکھا۔ اس کے صفحہ ۲ پر دو مضامین چھپے تھے۔ ایک مضمون کا عنوان تھا: بھارت اپنا رویہ کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ دوسرے مضمون کا عنوان تھا: امت مسلمہ کو درپیش مسائل۔ میں نے اس کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مسئلہ کے لیے کسی نہ کسی ” بھارت “ کو دریافت کیے ہوئے ہے۔ امت کے خود ساختہ نمائندے اپنی تحریر و تقریر سے امت کو مسلسل یہ یقین دلا رہے ہیں کہ تمہارے تمام مسائل کا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page