The National Conference for Community & Justice
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۷
سبب فلاں فلاں خارجی لوگ ہیں اور وہ اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ وہ اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی منفی رہنمائی امت کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ پوری امت کا ذہن یہ بنا دیا گیا ہے کہ تمہارے مسائل کا سبب تمہارے اندر نہیں ہے بلکہ تمہارے باہر ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر بیک وقت دو تباہ کن نفسیات پیدا ہوگئی ہے— اپنے بارے میں معصومانہ حد تک بے قصور ہونے کا احساس، اور دوسروں کے بارے میں مجرمانہ حد تک قصور وار ہونے کا احساس۔ اس نفسیات کا یہ مہلک نتیجہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں حقیقت پسندی اور خود تعمیری کا مزاج ختم ہوگیا۔ جب کہ اسباب کی موجودہ دنیا میں حقیقت پسندی اور خود تعمیری کامیابی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ایک امریکی پبلشنگ ہاؤس برجسٹون بکس (Bridgestone Books) نے ۲۴ صفحہ کی ایک کتاب ۱۹۹۶ میں چھاپی تھی جس کا نام مسلم ہولی ڈیز (Muslim Holidays) ہے۔ اس کے مصنف کا نام فیتھ ونچسٹر (Faith Winchester) ہے۔
اس کتاب میں ان تمام "تہواروں" کا ذکر ہے جو موجودہ مسلم سماج میں رواجی طور پر منائے جاتے ہیں۔ حالانکہ واقعی معنوں میں اسلامی تہوار صرف دو ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ اس کتاب میں ایک پورے صفحہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خود ساختہ تصویر چھاپی گئی تھی۔ اس تصویر میں آپ کا جو چہرہ دکھایا گیا ہے وہ روحانی چہرہ کے بجائے جنگجو آدمی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں قرآن کے بجائے تلوار دکھائی دے رہی ہے۔ اس تصویر پر کونسل آن اسلامک ایجوکیشن نے اعتراض کیا۔ انہوں نے اس پر پبلشنگ ہاؤس سے خط وکتابت کی۔ آخر کار پبلشنگ ہاؤس اس صفحہ کو بدلنے پر راضی ہوگیا۔ چنانچہ کتاب کے اگلے ایڈیشن ۱۹۹۹ میں کتاب کے مذکورہ صفحہ پر تصویر کے بجائے جلی حرفوں میں صرف محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے۔
یکم دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے گھر پر اجتماعی افطار کا پروگرام تھا۔ اس میں کافی لوگ شریک ہوئے۔ افطار اور نماز کے بعد مجھ سے تقریر کے لیے کہا گیا۔ میں نے کہا کہ روزہ کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبح سے شام تک نہ کھایا جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues