The National Conference for Community & Justice
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۸
زیادہ کھایا جائے ۔ یعنی مادی غذا کو کم کیا جائے تا کہ روحانی غذا زیادہ حاصل ہو سکے۔ قرآن میں دو چیزوں کو روزہ کا مقصد بتایا گیا ہے ۔ تقویٰ اور شکر ۔ روزہ رکھنے سے تقویٰ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور بھوک پیاس کے بعد شام کو جب آدمی کھاتا اور پیتا ہے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرتا ہے ۔ عام حالات میں آدمی جلد جلد کھاتا رہتا ہے۔ اس لیے اس کو نہ سچی بھوک کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ اس بات کا تجربہ کہ کھانا کیسی عجیب نعمت ہے ۔ میں نے بتایا کہ تاتاریوں نے جب عباسی سلطنت کو ختم کیا تو آخری سلطان کو ایک کمرہ میں قید کر دیا۔ مسلسل کئی وقت اس کو کھانا نہیں ملا اور وہ بھوک سے تڑپنے لگا تو اس نے تاتاری سردار کے پاس پیغام بھیجا کہ میں بہت بھوکا ہوں، مجھے کھانے کے لیے کچھ بھیج دو۔ تاتاری سردار نے حکم دیا کہ محل کے تہہ خانے میں جو ہیرے اور جواہرات ملے ہیں ان کو ایک طشت میں سجا کر سلطان کے پاس لے جاؤ۔ سلطان نے جب طشت کو دیکھا تو وہ رو پڑا۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ : ان الجواهر لا تؤکل (ہیرے جواہر کھائے نہیں جاتے)۔
روزہ میں وقتی طور پر کھانا اور پینا بند کر کے آدمی کے اندر اس کیفیت کو بیدار کیا جاتا ہے کہ غذا کیسی عجیب نعمت ہے۔ دولت کی بڑی سے بڑی مقدار آدمی کے لیے غذا کا بدل نہیں بن سکتی۔ امریکہ کے موجودہ سفر میں میرا قیام زیادہ تر صغیر اسلم صاحب کے گھر پر رہا۔ ان کی باتیں اور ان کے کام مجھے عام لوگوں کے مقابلہ میں بہت مختلف نظر آئے۔ ان میں ایک انوکھی صفت میں نے یہ پائی کہ ان کے خلاف اگر کوئی سخت بات کہی جائے یا ان پر تنقید کی جائے تو وہ اس پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ نہایت معتدل انداز سے سنتے ہیں۔ ان کے اس مختلف مزاج کا راز کیا ہے، اس کا اندازہ مجھے ان کے ایک واقعہ سے ہوا۔
امریکی ریستوران میں یہ رواج ہے کہ ان کے ہاں ایک ڈاگی بیگ (Doggy Bag) ہوتا ہے۔ یعنی کتے کا پیکٹ۔ جو لوگ ریستورینٹ میں کھانے کے لیے آتے ہیں، جب ان کا کھانا بچ جاتا ہے تو ان کو یہ بیگ دیا جاتا ہے کہ اپنا کھانا اس میں رکھ لیں اور گھر جا کر اپنے کتے، بلی کو دے دیں تا کہ کھانا ضائع نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues