Al-Risala · November 2003 · page 39

Please give me people bag, not doggy bag.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۳۹

تقریبا ۲۰ سال پہلے کا واقعہ ہے، صغیر اسلم صاحب نے نیویارک کے ایک ریسٹورینٹ میں کھاناکھایا۔ کھانابچ گیاتوحسب قاعدہ ہوٹل کے ویٹر نے انہیں ایک خالی ڈاگی بیگ دیا اور کہا کہ اپنا بچا ہوا کھانا اس میں رکھ لیجیے اور واپس جا کر اپنے کتے کو کھلا دیجیے۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ یہ میرے لیے انسانی بیگ ہے نہ کہ ڈاگی بیگ۔ میں جا کر اس کو خود ہی کھاؤں گا۔

Please give me people bag, not doggy bag.

یہ واقعہ میں نے سنا تو فوراً میری زبان سے نکلا کہ آپ بلاشبہ ایک بہادر آدمی ہیں۔ ایک بہادر آدمی ہی اس قسم کی بات کہہ سکتا ہے۔ اس کی بعد میری سمجھ میں آگیا کہ صغیر اسلم صاحب کے اندر جو غیر معمولی صفات ہیں ان کا راز کیا ہے۔ ان کا راز یہ ہے کہ وہ ایک بہادر انسان ہیں۔ بزدل انسان بے برداشت انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر بات کو اپنی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس بہادر انسان برداشت والا انسان ہوتا ہے۔ وہ عزت اور بے عزتی کی اصطلاح میں نہیں سوچتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کوئی بات از روئے واقعہ کیا ہے، نہ یہ کہ اس کی شخصیت سے اس کا کیا تعلق ہے۔ ۲ دسمبر کو ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب مجھ کو اپنے مکان پر لے گئے۔ وہاں میں نے چند گھنٹے گزارے۔ ان کے رشتہ دار اور ان کے خاندان کے لوگ سو سے زیادہ کی تعداد میں یہاں قریب قریب رہتے ہیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب کے مکان پر آگئے۔ یہاں اجتماعی انداز میں لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کے دوران میں نے کہا کہ فریڈم بہت اچھی چیز ہے لیکن جب فریڈم انارکی کی حد تک پہنچ جائے تو وہ اتنی ہی زیادہ بری چیز بن جاتی ہے۔ ظہر کی نماز ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب کے مکان پر جماعت کی صورت میں پڑھی۔ نماز کے بعد میں نے انگریزی میں ایک مختصر تقریر کی جس میں نماز کی حقیقت بتائی۔ میں نے بتایا کہ نماز مسلمانوں کے لیے ایک مکمل تربیتی کورس ہے۔

۲ دسمبر کی شام کو اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں افطار کا انتظام تھا۔ یہاں افطار سے پہلے ۱۵ منٹ کی ایک تقریر کی ۔ اس تقریر میں روزہ کی حقیقت کے بارے میں میں نے کہا کہ حدیث میں رمضان

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page