Al-Risala · November 2003 · page 40

Please give me people bag, not doggy bag.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۰

کے مہینہ کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل حقیقت صبر ہے۔ روزہ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی تحمل اور برداشت کے ساتھ زندگی گزارے۔ وہ اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ دنیا میں رہ سکے۔

یکم دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے گھر پر ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں میں نے روزہ کے بارہ میں کچھ باتیں کہیں ۔ میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بالقصد سحری میں اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ شام تک انہیں بھوک نہ لگے۔ مگر یہ طریقہ روزہ کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔ روزہ کا مقصد قرآن میں تقویٰ اور شکر بتایا گیا ہے۔

روزہ کے ضمن میں تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ صبح سے شام تک نہ کھانے کی وجہ سے آدمی کو بھوک کا تجربہ ہو اور پھر وہ احساس عجز کے ساتھ اللہ کی طرف تضرع کرے۔ وہ کھانے کی اہمیت کا تجربہ کر کے اللہ سے ڈرے کہ اگر وہ مجھ سے کھانا اور پینا چھین لے تو میرا کیا انجام ہوگا۔ شکر کا مطلب یہ ہے کہ شام کے وقت آدمی جب افطار کرے اور حدیث کے الفاظ میں اس کی رگیں پانی سے تر ہو جائیں تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو اور وہ سوچے کہ یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نے میرے لیے رزق کا انتظام کیا۔ یہ بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ شام کے وقت پورا کھانا کھائیں مگر صبح کے وقت سحری میں ناشتہ کی مانند کم کھائیں تا کہ دن میں آپ کو بھوک کا تجربہ ہو۔

اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے کسی قدر شدت کے ساتھ کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ سحری میں اگر کم کھایا جائے گا تو دن میں آدمی کام کیسے کر سکے گا۔ میں ابھی خاموش تھا کہ حاضرین میں سے زیادہ عمر کے ایک صاحب نے کہا کہ میں لمبی مدت سے امریکا میں رہتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ روزہ رکھنے والے مسلمان روزہ میں اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ میں سے ہر شخص سے کہتا ہوں کہ وہ آج اپنے کوتول کر اپنا وزن لکھ لے اور پھر روزہ کے بعد وہ دوبارہ اپنے آپ کو تولے مجھے یقین ہے کہ وہ پائے گا کہ اس کا وزن روزہ کے بعد بڑھ گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page