Al-Risala · November 2003 · page 41

Please give me people bag, not doggy bag.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۱

میں نے کہا کہ زیادہ کھانا (overeating) عام حالات میں بھی بری ہے۔ اور روزہ کے زمانہ میں زیادہ کھانا تو اور بھی زیادہ برا ہے۔ روزہ میں زیادہ کھانا اس مصلحت کو ختم کر دیتا ہے جس کے لیے رمضان کا روزہ فرض کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ روزہ کے بارے میں اسی قسم کی صورت حال تھی جس کے خلاف فارسی شاعر نے اس طرح احتجاج کیا تھا کہ روزہ کی ریاضت نے لوگوں کی تن پروری کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ چنانچہ رمضان کا مہینہ سحری اور افطار کی دھوم کا مہینہ بن گیا ہے: تن پروری خلق فزوں شد ز ریاضت جز گرمی افطار ندارد رمضان پیچ جناب صغیر اسلم صاحب کے ساتھ کئی دنوں تک رہنے کے بعد میں نے اندازہ کیا کہ وہ غیر معمولی صفات کے آدمی ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں سے مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ۴ دسمبر ۲۰۰۰ کی صبح کو میں نے ان سے کہا:

God Almighty created you with special qualities. But He is still waiting for you to play a role which is equal to that special creation. تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے کچھ بہت غیر معمولی صلاحیت والے انسان پیدا کئے ۔ مگر ان میں بہت کم ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا۔ تاریخ کے بیشتر اعلیٰ افراد اپنی صلاحیتوں کا صرف کم تر استعمال کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔

صغیر اسلم صاحب کی اہلیہ بشریٰ سلطانہ (عمر ۴۵ سال) پاکستان میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۷۲ سے امریکا میں رہ رہی ہیں۔ میں یہاں کئی بار آیا ہوں اور ان کے گھر پر کئی کئی دن تک ٹھہرا ہوں۔ وہ ایک خوش حال فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور اچھی انگریزی بولتی ہیں اور امریکا کی شہری بن چکی ہیں۔ مگر میں نے ان کے اندر ذرا بھی امریکی پن کا تجربہ نہیں کیا۔ ان کے اندر چار صفتیں نہایت عجیب ہیں— خالص دینی مزاج، خدمت خلق کا گہرا جذبہ، انتہائی سادگی، نو پرابلم خاتون بن کر رہنا۔ ان کی والدہ مرحومہ نے ان کو ایک نصیحت کی تھی، وہ یہ کہ کسی کو تم سے شکایت ہو تو تم کبھی اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page