Al-Risala · November 2003 · page 42

Please give me people bag, not doggy bag.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۲

طرف سے صفائی مت پیش کرنا، تم نے غلطی نہ کی ہو، تب بھی کہنا کہ مجھے معاف کیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نصیحت ایک کلیدی نصیحت ہے۔ اور ہر عورت اور ہر مرد کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ خاندانی یا سماجی زندگی میں بیشتر مسئلے اسی لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ شکایت کے موقع پر صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ صفائی پیش کرنا عملی طور پر بالکل بے فائدہ ہے۔ اجتماعی زندگی کا واحد کامیاب فارمولا یہ ہے کہ اگر آپ نے کوئی غلطی کی ہے تو جب آپ کو غلطی کی طرف متوجہ کیا جائے تو آپ فوراً اپنی غلطی مان کر اس کی اصلاح کر لیں اور اگر آپ نے غلطی نہیں کی ہے تب بھی یہی کہیں کہ میری غلطی کے لیے مجھ کو معاف کیجیے۔ آپ کا اعتماد اس پر ہونا چاہیے کہ میں غلطی سے بری ہوں نہ کہ اس پر کہ میں نے اعتراض کرنے والے کے اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ جناب عمران احمد چودھری (پیدائش ۱۹۷۷) ایک کمپیوٹر انجینئر ہیں۔ وہ ۱۹۹۶ میں پاکستان سے امریکا آئے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے ماحول میں کسی وجہ سے غیر آسودہ (uncomfortable) ہیں تو اس کو اپنے لیے کوئی برائی نہ سمجھیے۔ اگر آپ غیر آسودگی کے ساتھ رہنا سیکھ لیں تو غیر آسودگی آپ کے لیے نعمت (boon) بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں ایک کمپیوٹر کمپنی میں ٹیکنیشین کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میرا کام چھوٹے کمپیوٹر(Lap Top) کورپیئر کرنا اور بیچنا تھا۔ میرا منیجر جو ایک وہائٹ امریکن تھا، کسی وجہ سے اس کو مجھ سے ضد ہوگئی۔ وہ میری سخت نگرانی کرنے لگا۔ حتیٰ کہ وہ یہ بھی دیکھنے لگا کہ میں باتھ روم میں کتنے منٹ صرف کرتا ہوں۔ جب کہ اسی آفس میں جو دوسرے ٹیکنیشین تھے ان کے ساتھ اس کا رویہ رعایت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک صورت یہ تھی کہ میں منیجر کے متعصبانہ سلوک پر غصہ کروں اور اپنے دل میں اس شکایت کی پرورش کروں کہ وہ میرے ساتھ ایک سلوک کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کچھ اور سلوک تو اس کا انجام یہ ہوتا کہ یا تو میں لڑتا، جھگڑتا یا کمپنی کو چھوڑ کر چلا جاتا۔ دونوں حالتوں میں میرا ہی نقصان تھا۔ اس کے برعکس میں نے یہ کیا کہ منیجر کے نازیبا سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page