Please give me people bag, not doggy bag.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۳
اپنے کام میں لگارہا۔ مینیجر کی سخت گیری کو گوارا کرنے کا مزید فائدہ یہ ہوا کہ میں اپنے کام میں اور زیادہ چوکوس ہوگیا تا کہ اس کو میرے خلاف شکایت کا موقع نہ ملے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے لوگ جس کام کو تقریباً ۲ سال میں سیکھتے ہیں اس کو میں نے صرف چھ ماہ میں سیکھ لیا۔ اور اب میں دوسری کمپنی میں زیادہ بہتر جاب کر رہا ہوں۔ ۴ دسمبر کو جناب رفیع صاحب کے ہمراہ یہاں کی مختلف چیزیں دیکھیں۔ ان میں سے ایک وہ عالی شان چرچ تھا جسے کرسٹل کیتھیڈرل کہا جاتا ہے۔ وہ ایک عبادت خانہ کے طور پر بنایا گیا ہے مگر وہ اپنی وسعت اور چمک دمک کے اعتبار سے ایک بہت بڑا شوپیں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت خانہ کا یہ نمائش تصور بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مگر عیسائی حضرات کے یہاں صدیوں سے یہ چلا آرہا ہے کہ چرچ کو اتنا عالی شان بناؤ کہ اس کی عمارت کو دیکھ کر لوگ ہمارے مذہب کی عظمت کو محسوس کریں۔ امریکا کا یہ کرسٹل کیتھیڈرل اس تصور کی ایک انوکھی مثال ہے۔ اس کیتھیڈرل میں آنے والا شخص انسانی کاریگری کی وقتی عظمت سے اتنا زیادہ مسحور ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی حقیقی اور ابدی عظمت کا سرے سے خیال ہی نہیں آتا۔
چرچ کے وسیع احاطہ میں پختہ راستے (path ways) بنے ہوئے ہیں۔ ان پر بائبل کے اقتباسات قیمتی پتھروں پر کندہ کرکے راستہ میں نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر اقتباسات میں خدا (God) کا لفظ بھی شامل تھا۔ مثال کے طور پر :
I will dwell in the House of the Lord forever. God has spoken to us by His son. ان پتھروں پر لوگ جوتا پہنے ہوئے اطمینان کے ساتھ چل رہے تھے۔ یہ بھی عیسائیت کا انوکھا مزاج ہے۔ ڈاکٹر حبیب اللہ خاں صاحب کی بیگم، شمیم حبیب اللہ نے اپنے مکان پر ایک اجتماع کیا جس میں ان کے وسیع خاندان کے عورت اور مرد شریک ہوئے۔ ۴ دسمبر کو میں نے اس میں شرکت کی۔ سوال وجواب کی صورت میں دیر تک اسلام کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوتی رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues