Please give me people bag, not doggy bag.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۴
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان اسلام میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے کا شقیقہ کہا گیا ہے، یعنی ایک کُل کے دو برابر نصف حصے۔ مگر برابری کے ساتھ زندگی میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ عورت اور مرد کے درمیان ہی نہیں بلکہ عورت اور عورت، مرد اور مرد کے درمیان بھی ضروری ہے۔ اگر ایڈجسٹمنٹ نہ کیا جائے تو زندگی گزارنا ہی ممکن نہ رہے گا۔
ایک مجلس میں کچھ تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان یہ گفتگو ہوئی کہ صاحب بصیرت انسان (man of vision) کون ہے۔ میں نے کہا کہ صاحب بصیرت انسان وہ ہے جس کی بصیرت کی مستقبل تصدیق کرے۔ جس کی بصیرت کی مستقبل کے حالات تصدیق نہ کریں وہ ایک خواب دیکھنے والا (dreamer) تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں صاحب بصیرت انسان۔
میں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں برصغیر کے اکثر مقبول لیڈر صرف ڈریمر ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اقبال اورجناح اورہندستان کے گاندھی اور نہرو سب اس کی مثالیں ہیں۔ پاکستان سے آئے ہوئے ایک مسلمان نے بتایا کہ چالیس سال پہلے وہ امریکا میں آئے۔ اس وقت وہ نو جوان تھے۔ ایک دن وہ اپنے مقامی ساتھی کے ہمراہ ایک سڑک سے گزرے۔ ایک مقام پر اس سڑک کے کنارے ایک خوبصورت عمارت تھی۔ اس کے سامنے بہت بڑا سر سبز اور خوب صورت لان تھا۔ اس میں ہرے بھرے درخت اور پھولوں کے دلکش مناظر تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ جب میں پیسہ کمالوں گا تو امریکا میں اسی قسم کا ایک مکان اپنے لیے خریدوں گا۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ اس کو تمہیں خریدنا نہیں پڑے گا۔ وہ تو تم کو خریدے بغیر ہی مل جائے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسے ۔ ساتھی نے کہا کہ یہ تو یہاں کا قبرستان ہے۔ اس قبرستان کا نام روز گارڈن ہے۔ ۳ دسمبر ۲۰۰۰ کو مجھے بھی یہاں کا ایک قبرستان دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قبرستان کا نام ملروز اے (Melrose Abbey) تھا۔ میں جب وہاں پہنچا تو یہ میرے لیے ایک نیا مشاہدہ تھا۔ یہ ایک نہایت وسیع پارک کی مانند تھا۔ اس کے اندر عمدہ سڑکیں بنی ہوئی تھیں۔ ایک کنارے ایک شاندار
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues