Please give me people bag, not doggy bag.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۵
عمارت کھڑی ہوئی تھی۔ مگر وہ کوئی محل نہ تھا بلکہ وہ عمودی (vertical) قبرستان تھا۔ یہ قبرستان دیکھنے میں ایک اعلیٰ درجہ کی تفریح گاہ معلوم ہوتا تھا۔ اتوار کا دن تھا۔ چنانچہ کئی لوگ کاروں پر سفر کر کے یہاں آئے تھے تاکہ مرے ہوئے عزیزوں کی یاد تازہ کر سکیں۔ یہاں موت کے سناٹے کے بجائے زندگی کی تازگی دکھائی دے رہی تھی۔
میں نے سوچا کہ پہلے قبرستان کا تصور یہ تھا کہ وہاں کے ماحول میں موت اور دنیا کی ناپائیداری یاد آتی تھی۔ مگر امریکہ کے قبرستان میں تو قبرستان بھی ایک راحت کدہ بن گیا ہے۔ لکھنؤ میں قبرستان کا نام عیش باغ ہے۔ مگر حقیقت میں یہ امریکہ ہے جہاں قبرستان کو عیش باغ کی صورت دے دی گئی ہے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کام کی دو قسمیں ہیں۔ کمیونٹی ورک اوردعوہ ورک۔ کمیونٹی ورک وہ ہے جو کمیونٹی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آئے۔ ۔ اوردعوہ ورک وہ ہے جو خالص اللہ کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے شروع کیاگیاہو۔ دونوں دونوں کے فرق کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مکہ میں دعوہ ورک تو پوری طرح ممکن تھا چنانچہ دور اول کے صحابہ رات دن اس میں مصروف رہتے تھے مگر وہاں کمیونٹی ورک کا کوئی امکان نہ تھا۔ کیوں کہ کمیونٹی ابھی وجود ہی میں نہ آئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں کمیونٹی ورک نہایت اعلیٰ پیمانہ پر کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ آج مسلمان ایک بلین سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ ان کے پاس ہر قسم کے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ وہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو ایک عظیم انسانی مارکیٹ بنا دیا ہے۔ آج ان کے درمیان جو کام بھی کیا جائے اس میں شہرت، لیڈری، مادی منافع اور عوامی مقبولیت فوراً مل جائے گی۔ اس بنا پر آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس عظیم مسلم ملت کے درمیان جو بھی کمیونٹی ورک کیا جائے وہ کامیابی کا زینہ بن جائے گا۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو بے شمار کام ہو رہے ہیں وہ زیادہ تر کمیونٹی ورک ہیں نہ کہ دعوہ ورک۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues