Al-Risala · November 2003 · page 47

Please give me people bag, not doggy bag.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۷

مطابق میں۔ میں نے اسے بدلوا کر اسٹیشن وجینیٹرن لکھوایا۔ میرا یہ سفر جرمن ائر لائن لفٹھانزا کے ذریعہ ہوا۔ میرے تجربہ کے مطابق جرمن لوگ کسی قدر غیر نرم ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں سوئس ائر کے لوگ مجھے زیادہ نرم اور متواضع دکھائی دیے۔

لاس اینجلز سے لفتھانزاکی فلائٹ سے فرینک فرٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ تقریباً ساڑھے دس گھنٹے کا نان اسٹاپ سفر تھا۔ مگر راستہ میں نیند آ گئی جس نے سفر کو آسان کر دیا۔ نیند ایک عجیب نعمت ہے جو طویل مدت کو مختصر کر دیتی ہے۔

فرینک فرٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ اب ۶ دسمبر کی صبح کا وقت ہو چکا تھا۔ فرینک فرٹ سے دہلی کا سفردوبارہ لفتھانزاکے جہاز سے ہوا۔ یہ سفر تقریباً آٹھ گھنٹے کا تھا۔ دوبارہ یہ سفر بھی زیادہ تر نیند کی حالت نہیں ہوا۔ اس پورے سفر میں کھانے اور نماز کے علاوہ زیادہ تر وقت سوتے ہوئے گزرا۔ جہاز اپنے وقت پر دہلی پہنچ گیا۔ یہ شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے ۷ دسمبر کو صبح ڈیڑھ بجے کا وقت تھا، یعنی ۶ دسمبر کا دن گزار کر رات کو ڈیڑھ بجے ۔ ہندوستان سے امریکا جاتے ہوئے تاریخ دیر میں بدلتی ہے اور واپسی میں تیزی سے بدل جاتی ہے۔ دہلی ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے وہاں پہنچا جہاں پاسپورٹ کی چیکنگ ہوتی ہے۔ میرا پاسپورٹ میرے ساتھی کے ہاتھ میں تھا۔ چیک کرنے والے شخص نے ان سے میرا پاسپورٹ لیا اور اس کو کھول کر دیکھنے کے بعد کہا: کیا یہ وہی مولانا صاحب ہیں جو لکھ لکھتے ہیں۔ میرے ساتھی نے کہا کہ ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ اچھا جائیے اور ہم بلا روک ٹوک چلتے ہوئے باہر آگئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2003 All issues

Printed page