اسلام اور دوسرے مذاہب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۵
کے دور میں آئیں۔ یہ عملی طور پر حفاظت کا ایک غیر یقینی ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں۔ انسان نے قصد پچھلی تمام آسمانی کتابوں کو غیر محفوظ بنا دیا۔ پیغام کی حفاظت کا دوسرا دور وہ ہے جس کو میکینیکل حفاظت کا دور کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور وہ ہے جب کہ کسی پیغام کی حفاظت کا کام زندہ انسان کے ہاتھ سے نکل کر جامد مادہ کے دائرہ میں آگیا۔ یعنی وہ دور جب کہ پیغام کو کاغذ پر لکھا جانے لگا اور چھاپ کر اس کی ہو بہو نقلیں (copies) انسانی حافظہ سے باہر تیار کی جانے لگیں۔ اس دوسرے دور میں پہنچ کر اس پیغام کی حفاظت کا معاملہ تغیر پذیر انسان کے تابع نہ رہا بلکہ وہ غیر تغیر پذیر مادہ کے ہاتھ میں آگیا۔
قرآن اسی دوسرے دورِ حفاظت میں آیا۔ مذکورہ آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ دوسرا دور جن فطری اسباب کے تحت ممکن ہوا ہے وہ تمام اسباب براہِ راست طور پر خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے اس دوسرے دور کو خدا کی طرف منسوب کرکے کہا گیا کہ خدا خود قرآن کی حفاظت کرنے والا ہے۔
اس بات کو تاریخ کی اصطلاح میں کہنا ہو تو اُس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کتابوں کی حفاظت کے دور میں آیا۔ اس کے مقابلہ میں دوسری آسمانی کتابیں اُس دور میں آئیں جب کہ کتابوں کی حفاظت کے لیے ابھی تک کوئی یقینی انتظام موجود نہ تھا۔ دور کا یہی وہ فرق ہے جس کو قرآن میں مخصوص خدائی اسلوب میں اُن دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے جن کو اوپر نقل کیا گیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کتابت(writing) کا کام قبل مسیح دور میں شروع ہوا۔ اس زمانہ میں سادہ چیزوں پر لکھنے کا رواج تھا۔ مصر میں ایک پودا پایا جاتا تھا جس کا یونانی نام پیپرس(papuros) تھا۔ اس پودے کے اندر باریک پرت(layer) ہوتی تھی۔ اس پرت کو نکال کر عرصہ تک اس کو کاغذ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ اسی لیے کاغذ کا نام پیپر (paper) پڑ گیا۔
دوسری صدی عیسوی میں چین میں لکڑی وغیرہ سے کاغذ بنایا جانے لگا۔ یہ کاغذ تاجروں کے ذریعہ مسلم دنیا میں آنے لگا۔ کاغذ بنانے کا فن ۷۵۱ میں سمرقند میں پہنچا اور ۷۹۳ میں بغداد میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues