اسلام اور دوسرے مذاہب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۶
ہارون رشید کے زمانہ میں پہلی بار کاغذ بنایا گیا۔ اس کے بعد کا غذ یہاں سے یورپ تک پہنچا: The art of paper making reached Samarkand, in central Asia in 751; and in 793 the first paper was made in Baghdad during the time of Harun-ar-Rashid, with the golden age of Islamic culture, that brought paper making to the frontiers of Europe. (13/966)
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی ۶۱۰ میں مکہ میں اتری اور ۶۳۲ء تک نجماً نجماً جاری رہی، جب کہ مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ ۲۳ سال کی اس مدت میں یہ طریقہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ فرشتہ کے ذریعہ آپ تک پہنچتا، آپ اور آپ کے اصحاب اُس کو یاد کرلیتے۔ اُس زمانہ میں کثرت استعمال کی بنا پر لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوا کرتے تھے، اس لیے نازل شدہ حصہ قرآن کو یاد کرنا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ اسی کے ساتھ اُترنے کے بعد فوراً ہی اُس کو جھلی وغیرہ پر لکھ لیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر موریس بکائی نے اس دو طرفہ طریقہ کو ڈبل چیکنگ کا طریقہ (double checking system) بتایا ہے۔ یعنی حافظہ کا تقابل تحریر سے کیا جائے اور تحریر کا تقابل حافظہ سے کیا جائے۔ اس طرح ایک کو دوسرے سے چیک کرتے ہوئے اُس کی صحت کا تیقن حاصل کیا جائے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا تكتبوا عنی غیر القرآن۔ یعنی تم لوگ صرف قرآن کو لکھو، تم میرے اپنے کلام کو نہ لکھو۔ پیغمبر اسلام کی یہ ہدایت صرف مذکورہ ۲۳ سال کے لیے تھی جب کہ قرآن اُتر رہا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ قرآن اور کلامِ رسول دونوں ایک دوسرے میں مل نہ جائیں۔ آخری زمانہ میں جب کہ قرآن کا نزول تقریباً مکمل ہو گیا تو آپ نے کلامِ رسول کو لکھنے کی اجازت دے دی اور فرمایا: قیدو العلم بالكتابة (علم کو تحریر کے ذریعہ محفوظ کرو)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات ہوئی تو پورا قرآن ہزاروں لوگوں کے حافظوں میں محفوظ ہو چکا تھا۔ اسی کے ساتھ مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے جھلی اور دوسری چیزوں پر پورے قرآن کو لکھ لیا۔ خلیفۂ اول ابو بکر صدیق نے اپنے زمانہ میں اس معاملہ میں ایک اور کام کیا۔ اُس وقت
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues