اسلام اور دوسرے مذاہب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۷
زید بن ثابت انصاری موجود تھے جو تب وحی بھی تھے اور پورے قرآن کے اچھے حافظ بھی۔ انہوں نے زید بن ثابت انصاری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کی یادداشت اور تحریری ذخیرہ کی مدد سے مکمل قرآن لکھیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک مہم کے طور پر کتابتِ قرآن کے کام کو شروع کیا اور اُس کو تکمیل تک پہنچایا۔ یہ کتابت غالباً قدیم زمانہ کے کاغذ پر کی گئی تھی۔ یہ کاغذ وہی تھا جس کو مصر میں پیپرس (Papuros) نامی پودے کی فطری پرت (layer) کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا۔
زید بن ثابت انصاری نے کتابت کی تکمیل کے بعد اُس کے اوراق کو یکجا کر کے اُس کی جلد بنائی۔ یہ گویا مجلد قرآن کا پہلا نسخہ تھا جو اپنی شکل کے اعتبار سے چوکور تھا۔ چنانچہ اُس کو ربعہ کہا جاتا تھا۔ خلیفہ اول نے قرآن کے اس نسخہ کو زوجہ رسول حضرت حفصہ کے گھر پر رکھوا دیا۔ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کا زمانہ آیا تو اُس وقت تک کا کاغذ اور بھی زیادہ عام ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان نے زید بن ثابت انصاری کے نسخہ کو لے کر اُس کی کئی نقلیں تیار کرائیں اور اُن نقلوں کو بڑے بڑے شہروں میں بھیج دیا تا کہ عمومی استفادہ کے لیے اُن کو شہر کی جامع مسجد میں رکھ دیا جائے۔
اس کے بعد کئی سو سال تک مسلم دنیا میں دو طریقے رائج رہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں میں قرآن کو حفظ کرنے کا عمومی رواج ہو گیا۔ نسل در نسل ایسے لوگ کثرت سے پیدا ہوتے رہے جن کو پورا قرآن اچھی طرح یاد تھا۔ اسی کے ساتھ قرآن کے عثمانی نسخہ کو لے کر لوگ اُس کی نقلیں تیار کرتے رہے۔ اس طرح قرآن کی نقلیں قدیم زمانہ کے کاغذ پر تیار ہو کر کثیر تعداد میں گھر گھر پہنچ گئیں۔ اسی کے ساتھ قرآن کی حفاظت اور صحتِ تلاوت کے لیے دوسرے کئی کام مختلف لوگوں کے ذریعہ انجام پائے۔ مثلاً بنو امیہ کے زمانہ میں قرآن کی آیتوں پر اعراب لگائے گئے اور حروف پر نقطے لکھے گئے۔ یہ کام زیادہ تر حجاج بن یوسف کے ذریعہ انجام پایا۔ اس کے بعد عباسی خلافت کے زمانہ میں طرزِ کتابت میں مزید ترقی ہوئی اور خط کوفی ایجاد ہوا۔ اس ایجاد نے قرآن کی کتابت میں حُسن کا پہلو پیدا کر دیا۔ یہ کام زیادہ تر ابن مقلہ کے ذریعہ انجام پایا۔
اس طرح قرآن کی کتابت اور حفاظت کا سفر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اٹھارویں صدی کا زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues