یک خط
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹۲
دہرانے کے ہم معنی ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈروں نے مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی مگر وہ سرتا سر نا کام رہی۔ اب مسلمانوں میں ویسا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ایسی حالت میں اس قسم کی بات کہنا صرف اردو اخباروں کی ایک خبر ہے۔ اس سے زیادہ اس کی اور کوئی حقیقت نہیں۔ بنیادی کام مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ ۶ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر شکیل اختر نے ۲۴ جون ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل ۷۵ مسلم ملکوں سے زیادہ روشن ہے۔ اس کا ایک اظہار یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی (عظیم ہاشم پریم جی) ہندوستان میں ہے۔ پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا سائنسٹ ڈاکٹر عبد الکلام ہندوستان میں ہے، وغیرہ۔ اسلام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ اسلام موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے میں نا کام ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے وہ سب ردِ عمل کی نفسیات کا شکار تھے۔ انہوں نے ہر چیز کی تعبیر منفی انداز میں کی۔ اس بنا پر موجودہ مسلمانوں کی سوچ منفی ہوگئی۔ مثلاً انہوں نے جدید مغربی تہذیب کو زہر بتایا۔ انہوں نے سیکولرزم کو لا دینیت کہا، انہوں نے ڈیموکریسی کو طاغوتی نظام بتایا۔ انہوں نے وطنی قومیت کو تازہ خدا قرار دیا۔ انہوں نے جدید انڈسٹری کو مسلم دشمن قوموں کا سازشی جال بتایا، وغیرہ۔ اس بنا پر مسلمان مثبت سوچ سے محروم ہوئے اور موجودہ دور کے جدید مواقع کو استعمال نہ کر سکے۔
۷ گڑ گاؤں (ہریانہ) میں جنگلات کے درمیان کئی بڑے بڑے رزورٹ بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک واٹر بینک رزورٹ ہے۔ یہاں ۲۸۔ ۲۹ جون ۲۰۰۳ کو الرسالہ کے کچھ قارئین کا ایک تربیتی کیمپ کیا گیا۔ اس میں دہلی کے تقریباً دس افراد شریک ہوئے ۔ صدر اسلامی مرکز نے لوگوں کو تربیتی انداز میں دین کی حقیقت سمجھائی۔ اس کا آغاز کلمہ شہادت کی اجتماعی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues