یک خط
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹۳
ادائیگی سے ہوا۔ اس کے بعد مختلف مجلسوں میں ذکر، عبادت، توحید، نبوت، آخرت، تفکر و تدبر اور تزکیہ جیسے موضوعات پر تربیتی انداز میں وضاحت کی گئی۔ اس کے شرکاء سب کے سب انگریزی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔
نئی دہلی میں شکتی مٹھ (عقب قطب مینار) میں ایک فنکشن ہوا۔ یہ فنکشن کیلاش مان سروور یاترا کو رخصت کرنے کے لیے تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے یکم جولائی ۲۰۰۳ کی شام کو اس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ ہم سب کو اتحاد اور محبت کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے۔ اسی میں اپنی ترقی ہے اور اسی میں ملک کی ترقی بھی۔
نئی دہلی کے اردو میگزین عالمی سہارا کے نمائندہ مسٹر فاروق نے ۲ جولائی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کی بابری مسجد سے تھا۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر ہو چکا ہے، وہ عام قانون کے تحت حل نہیں ہو سکتا۔ اب وہ قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت حل ہوگا۔ پہلا کام یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے قابل عمل فریم ورک دریافت کیا جائے۔
۶ جولائی ۲۰۰۳ کو انٹیگری ٹی وی (Integri TV) کے ڈائرکٹر سویا چی جین (Savyasaachi Jain) اپنی .T.V ٹیم کے ساتھ دفتر میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو دو گھنٹہ تک جاری رہا۔ اس کا موضوع مذہب اور روحانیت تھا۔ یہ ویڈیو انٹرویو دور درشن (نئی دہلی) کے لیے ریکارڈ کیا گیا۔ مذہب اور روحانیت کے ہر پہلو پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو انتہا پسند لیڈروں نے اپنی غلط رہنمائی سے انہیں ترقی کے راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ تاہم اب مسلمان ان لیڈروں کو چھوڑ کر اسلام کی سچی تعلیمات کی طرف آ رہے ہیں۔ دور درشن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۷ جولائی ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس میں نئی دہلی کے چار ممتاز افراد شریک تھے۔ یہ انگریزی میں تھا اور اس کا موضوع تھا ڈائیلاگ امنگ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues