یک خط
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹۴
سولینائزیشن (Dialogue among Civilizations) اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ دور جدید میں ترقی کی ایک دوڑ شروع ہوئی ۔ اس میں کچھ قومیں آگے بڑھ گئیں اور کچھ قومیں آگے نہ بڑھ سکیں ۔ یہ کلیش کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پچھڑے پن کا مسئلہ ہے۔ جو لوگ شکایت کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ اس کے بجائے وہ اپنے پچھڑے پن کو دور کریں۔
۱۲ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ جتندر شرما نے ۱۹ جولائی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہنٹنگٹن کی کتاب تہذیبوں کا تصادم (Clash of Civilizations) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ کتاب کوئی علمی کتاب نہیں۔ وہ سنسنی خیز صحافت کا ایک نمونہ ہے۔ اس قسم کی کتابیں زیادہ تر تجارتی نقطہ نظر سے لکھی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد نہ اصلاح ہوتا ہے اور نہ واقعات کا بیان۔
۱۳ ماہنامہ طوبیٰ (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ظل الرحمٰن نے ۲۳ جولائی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے ساتھ ماہنامہ طوبیٰ کے ایڈیٹر مولانا محمد ارشد المدنی بھی موجود تھے۔ یہ ایک تفصیلی سوالنامہ کا جواب تھا جس کا تعلق زیادہ تر مسلمانان عالم کے جدید مسائل سے تھا۔ یہ انٹرویو طوبیٰ کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۳ میں چھپ چکا ہے۔
۱۴ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے نمائندہ موہوا چٹرجی (Mohua Chatterjee) اور آنند بازار پتریکا کی نمائندہ جینتا گھوشل (Jayanta Ghosal) نے مشترک طور پر ۲۴ جولائی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد او ر اجودھیا کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ گفت و شنید کے ذریعہ طے نہیں ہو سکتا۔ اس کو طے کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس کے بارے میں واضح فیصلہ دے۔ پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ میں یہ کہا گیا تھا کہ انڈیا کی تمام مسجدوں کو ان کی ۱۹۴۷ کی حالت پر برقرار رکھا جائے گا، ماسوا بابری مسجد۔ بابری مسجد کا معاملہ کورٹ کے فیصلے سے طے ہوگا۔ بتایا گیا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues