Al-Risala · December 2003 · page 95

یک خط

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۹۵

کہ اس معاملہ میں دو بنیادی نکات ہیں۔ اول یہ کہ گورنمنٹ اس بات کی باقاعدہ یقین دہانی کرائے کہ دوسری کسی بھی مسجد کو چھیڑا نہیں جائے گا اور یہ کہ بابری مسجد کا مسئلہ کورٹ کے ذریعہ طے ہوگا۔ اس معاملہ کے حل کا یہی واحد عملی طریقہ ہے۔ یہ انٹرویو ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲۵ جولائی ۲۰۰۳ میں صفحہ ۷ پر شائع ہوا ہے۔

۱۵ ای ٹی وی (Enadu TV) کی ٹیم نے ۲۵ جولائی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ کامن سول کوڈ ایک غیر عملی نظریہ ہے۔ اس پر قانون سازی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قانون سازی کے بعد بھی موجودہ صورت حال عملاً اسی طرح باقی رہے گی جس طرح بہت سے دوسرے معاملات میں قانون سازی کے بعد بھی باقی ہے۔ مثلاً جہیز کے خلاف ایکٹ اور سول میریج ایکٹ، وغیرہ۔ ۱۶ گجراتی روزنامہ دیبیہ بھاسکر کے نامہ نگار مسٹر پرمود کمار نے ۱۳ اگست ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ کے مسئلہ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ ایک غیر فطری چیز ہے اور غیر دستوری بھی۔ کامن سول کوڈ پر عملاً اس سے پہلے قانون بن چکا ہے۔ یہ سول میریج ایکٹ ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ سول میریج ایکٹ باقاعدہ قانون بننے کے باوجود ایک فیصد بھی عملاً رائج نہیں۔ پھر ایک اور قانون بنانے سے کیا فائدہ۔ یہ قانون بہر حال دستور کے تحت ہوگا اور دستور کے مطابق کامن سول کوڈ کو جبری طور پر لازم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر ایسا قانون بنے تو وہ سپریم کورٹ میں رد ہو جائے گا۔

۱۷ ہندی روزنامہ ویر ارجن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ کے مسئلہ سے تھا۔ یہ انٹرویو ویر ارجن کے شمارہ ۱۴ اگست ۲۰۰۳ کے صفحہ ۵ پر شائع ہوا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ کامن سول کوڈ کا نفاذ عملاً ممکن نہیں۔ ایسے مسئلہ پر قانون سازی کرنا جس کا نفاذ عملی طور پر ممکن نہ ہو وہ صرف قانون کا احترام ختم کرتا ہے۔ اس طرح کی قانون سازی ہندوستان میں بار بار کی گئی ہے اور اس کا نتیجہ یہی ہوا ہے کہ ہمارے ملک

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page