کیرلا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
آشرم کے گسٹ ہاؤس میں ضیافت کے طور پر سب سے پہلے ناریل کا پانی پیش کیا گیا۔ ناریل کا پانی ایک قدرتی مشروب ہے۔ ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ اس کی ہر چیز مفید اور کارآمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفر نامہ اسی سے بھر جائے ۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنی ہوتی ہے۔ کئی تہہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے ۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طور پر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جاسکتا ہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میں جو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ زمانہ میں مشروبات کے پیک میں عین یہی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ اور اس کے ایک کنارے چھوٹی سی نرم جگہ بنائی جاتی ہے جہاں سے سوراخ کر کے مشروبات کو استعمال کیا جاسکے۔
۲۸ فروری کو ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر میں آشرم کے گسٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوں ۔ چاروں طرف دور دور تک سبزہ ہی سبزہ دکھائی دے رہا ہے ۔ یہاں نہ شور ہے اور نہ دھواں اور نہ جدید صنعتی زندگی کے اعصاب شکن مسائل ۔ ایک لمحہ کے لئے خیال آیا کہ اس خوبصورت اور پرسکون ماحول میں رہنا کتنا اچھا ہے۔ مگر جلد ہی بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ سوچ درست نہیں۔ اس قسم کے پرسکون ماحول میں آرام کی زندگی گزارنا کوئی بہت اچھی چیز نہیں۔ نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ ذہنی سکون کے مقابلہ میں ذہنی اضطراب زیادہ اعلیٰ حالت ہے۔ ذہنی سکون کی حالت میں رہنا بظاہر بہت اچھا ہے مگر وہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی کی ذہنی ترقی رک جائے ۔ فکری ارتقاء ہمیشہ طوفانی حالات میں ہوتا ہے، نہ کہ پرسکون حالات میں۔
ڈاکٹر گوپی ناتھن نے آشرم کے قریب گھر بنا لیا ہے۔ وہ یہاں ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں ایک گھر بنا کر پر سکون زندگی گزار رہا ہوتا تو میں کبھی اس فکری
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues