Al-Risala · February 2003 · page

کیرلا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

انقلاب تک نہ پہنچتا جس کا نتیجہ میری زندگی میں الرسالہ مشن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ کیرلا کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میں نے پوچھا کہ کیرلا میں بھی کیا اس طرح کی سیاسی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے جو پنجاب یا کشمیر یا آسام میں چل رہی ہے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ نہیں (Not at all)۔ اس اعتبار سے کیرلا ایک قابل تقلید ریاست ہے۔ دنیا کے جن ملکوں میں سیاسی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ سب کی سب صرف تباہی کی تحریکیں ہیں۔ ایک بڑے ملک کا حصہ رہ کر جو ترقی کی جاسکتی ہے وہ چھوٹا بننے کی صورت میں ممکن نہیں۔ اس طرح چھوٹا ملک بنانے کا واحد فائدہ یہ ہے کہ ایک لیڈر صاحب کو پرائم منسٹر کہا جانے لگے۔

میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میں فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں اس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طور پر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا رہاہوں کہ اس کا سبب کیا ہے، یہاں مجھے اس کا سبب معلوم ہوا۔ وہ یہ کہ سیکولر لوگوں میں مسلسل فری ڈائیلاگ جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائیلاگ کا عمل جاری نہیں ہوتا۔ یہاں بہت سے تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی جو گرو جی کے گہرے طور پر معتقد تھے۔ میں نے ان سے جب بھی کسی مسئلہ پر سوال کرنا چاہاتو گفتگو ایک حد سے آگے جاری نہ رہ سکی۔ مثلاً اس آشرَم میں ۲۴ گھنٹہ کے اندر آٹھ بار عبادت ہوتی ہے۔ یہ عبادت منتر جاپ کی صورت میں ہوتی ہے۔ مگر کئی لوگوں کو گرو نے اس عبادت سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ میں نے اس استثناء پر سوال کیا تو کوئی اس پر زیادہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوا۔ ہرایک نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہر آدمی کا کیس الگ ہوتا ہے۔ اور گرو جی ہر آدمی کو پہچان کر اس کو ہدایت دے دیتے ہیں۔ اس پر مزید گفتگو کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے۔

اسی طرح میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ گرو جی جب اپنی زبان سے خود یہ نہیں کہتے کہ میں پیغمبر ہوں تو آپ لوگ ان کے بارہ میں ایسے الفاظ کیوں بولتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اس سوال پر تفصیلی گفتگو کے لیے تیار نہ ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page