Al-Risala · February 2003 · page

کیرلا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی جماعت یا کسی بھی ادارہ میں جائیے ۔ آپ اگر وہاں ان کی مسلمہ شخصیتوں پر تفصیلی گفتگو کرنا چاہیں تو ایسا ناممکن ہوگا۔ یا تو لوگ بات نہیں کریں گے یا بہت جلد بگڑ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سنجیدہ گفتگو نا ممکن ہو جائے گی۔ اس کے برعکس آپ سیکولر لوگوں سے بات کیجئے تو وہ کبھی غصہ نہیں ہوں گے۔ مثلاً یہاں ایک صاحب ملے جو یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا مضمون پولیٹیکل سائنس بتایا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ سیاسی موضوع کو پولیٹیکل سائنس کہتے ہیں۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو پالی ٹکس کامضمون کوئی سائنسی مضمون ہی نہیں۔ سائنسی مضمون وہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو ۔ جب کہ پولیٹیکل سائنس میں کوئی بھی نظریہ یا فارمولا قابل تصدیق (verifiable) نہیں۔ اس طرح ان سے دیر تک گفتگو ہوئی مگر وہ غصہ نہیں ہوئے اور معتدل طور پر بات کرتے رہے۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مذہبی طبقہ میں فکری ارتقاء رک جاتا ہے جب کہ سیکولر طبقہ میں فکری ارتقاء کا عمل جاری رہتا ہے۔

یہاں میکسیکو کے ایک نوجوان مسٹر جان میکسیکو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے میکسیکو میں میڈیٹیشن کے دوران ایک گرو جی کی امیج دیکھی۔ میں ان کو جانتا نہیں تھا۔ پھر میں نے مراقبہ کیا تو ہندوستان کا نقشہ میرے سامنے آ گیا۔ پھر میں پوچھتے پوچھتے اس آشرم تک پہنچا۔ اس قسم کے قصے کثرت سے ہندو گروؤں کے یہاں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ٹھیک اسی قسم کے قصے مسلم بزرگوں کے یہاں بھی پھیلے ہوئے ہیں ۔ مسلمان ہندو گروؤں کے قصوں کو غلط بتاتے ہیں اور اپنے بزرگوں کے قصے کو صحیح سمجھتے ہیں ۔ مگر یہ طریقہ سراسر غیر منطقی ہے۔ آپ یا تو دونوں جگہ کی کہانیوں کو درست بتائیں یا دونوں جگہ کی کہانیوں کو بے بنیاد قرار دیں۔ ایک کو ماننا اور دوسرے کو رد کرنا درست نہیں۔

یہاں اردو سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ اس لیے گفتگو ہمیشہ انگریزی میں ہوتی رہی۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تلخ تجربہ یہ ہے کہ فطرت سے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page