Al-Risala · February 2003 · page

کیرلا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

انحراف اس دنیا میں سب سے زیادہ مہلک غلطی ہے۔ فطرت سے انحراف کی بدترین سزا ہر ایک کو لازمی طور پر بھگتنا پڑتا ہے، فرد کو بھی اور قوم کو بھی۔

عشاء کا وقت ہوا تو الگ الگ اذانوں کی آوازیں سنائی دیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں کئی مسجدیں ہیں۔ یہ آواز لاؤڈ اسپیکر کی تھی اور کافی دور سے آ رہی تھی۔ یہ مسجدیں آشرم کے وسیع علاقہ کے باہر ہیں۔ دور ہونے کی وجہ سے ان کی لاؤڈ اسپیکر پر دی ہوئی اذان صرف رات کو سنائی دیتی ہے، دن کو نہیں۔

ٹریوینڈرم ائرپورٹ سے شانتی گری آشرم آتے ہوئے درمیان کے علاقہ میں مجھے بتایا گیا کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تاہم یہاں کوئی ہند و اور مسلم مسئلہ نہیں۔ دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ کلچرل مشابہت بھی ہے۔ یہاں غیریت کا وہ ذہن نہیں پایا جاتا جو شمالی ہند کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

کے وشونا تھن سے میں نے پوچھا کہ ہندو گروؤں کے یہاں پاؤں پوجا پائی جاتی ہے۔ اس کی اصل کہاں ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، وہ ویدوں میں یا گیتا میں نہیں ہے۔ وہ اس کی اصل نہ بتا سکے۔ گروورشپ کے رواج نے غالباً فٹ ور شپ (foot worship) پیدا کی ۔ اکثر مذاہب کے موجودہ رواج خود ان کی اپنی کتابوں میں بھی موجود نہیں۔

یکم مارچ 1999 کی صبح کو ساڑھے نو بجے اصل پروگرام شروع ہوا۔ آشرم کی مین بلڈنگ کے سامنے وسیع میدان میں ہزاروں کی تعداد میں عورت اور مرد سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پہلے ملیالم میں ایک گیت گایا گیا جس کو میں سمجھ نہ سکا۔ پھر گرو جی نے ملیالم میں کچھ کہا۔ یہاں ترجمہ کا انتظام نہ تھا، اس کو بھی میں سمجھ نہ سکا۔ یہاں یا تو ملیالم زبان بولی جارہی تھی یا انگریزی۔ اس فنکشن میں گرو جی آکر اسٹیج پر بیٹھے۔ سب سے پہلے ان کے سامنے ہولی فیٹ سونے کا بنا ہوا پیش کیا گیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ خود گرو جی کے پاؤں کی نقل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page