It is now closed down because of labour problem.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
گرو جی کی بھی کوئی تصویر نہیں ملی۔ پورے آشرم میں کہیں نہ کوئی مورتی ہے اور نہ کوئی تصویر۔ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب فضل ہے کہ میں اکثر نہایت سچے خواب دیکھتا ہوں۔ میں نے بہت سی ایسی چیزوں کے بارہ میں واضح خواب دیکھے ہیں جن کے متعلق مجھے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ میرا خواب عین واقع کے مطابق تھا۔ مثال کے طور پر اپنے سفروں کے بارہ میں اکثر میں پیشگی طور پر خواب دیکھ لیتا ہوں ۔ اور عین اسی خواب کے مطابق سفر پیش آتا ہے۔ مثلاً ستمبر ۱۹۹۵ میں فلسطین کے سفر کے بارہ میں مجھے پیشگی طور پر کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہوائی جہاز میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ بعد کو عین ویسا ہی ہوا۔ اسی طرح ۲۸ فروری اور یکم مارچ کی درمیانی شب میں میں نے شانتی گری آشرَم میں خواب دیکھا کہ میں دہلی کے انٹرنیشنل ائر پورٹ میںہوں اور ابتدائی مراحل سے گزر کر آخری گیٹ کی طرف بڑھ رہا ہوں۔
میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ہے۔ ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طور پر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرَم میں لوگ یا تو ملیالم جانتے تھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میں خدا کے فضل سے انگریزی میں بے تکلف بول سکتا ہوں اور بے تکلف تقریر کر سکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیا حوصلہ پیدا کر دیا۔
یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر انٹرایکشن ہوا۔ اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میں پیدا ہوئے۔ مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues