It is now closed down because of labour problem.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
تھی ۔ وہ یہ کہ پورے وسیع پنڈال میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پہلے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دھواں کیا ہے۔ مگر سیکڑوں قمقموں کے باوجود یہاں بہت کم اجالا تھا۔ اس وقت محسوس ہوا کہ یہ بلب نہیں بلکہ موم بتیاں ہیں۔ موم بتیوں کے جلنے سے پوری فضا میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔ یہ ذوق بھی بڑا عجیب ہے۔ تمام مذہبوں میں صرف اسلام ایسا مذہب ہے جس میں ہر چیز فطری ہے۔ اسلام کی عبادت گاہ، اسلام کی مجالس، اسلام کے اجتماعات، ہر ایک میں اسلام کا مقرر کیا ہوا اصول عین فطرت کے اوپر قائم ہے۔ اگرچہ موجودہ زمانہ میں اغیار کے کلچر سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اسلام کا فطری نقشہ آج شاید کسی بھی مسلم ادارہ میں دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کہیں عملی اعتبار سے ہے تو نظری اعتبار سے نہیں۔ اور اگر کہیں نظری اعتبار سے ہے تو عملی اعتبار سے نہیں۔
گرو جی کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں معتقدین ہیں۔ اس کا راز کم از کم ایک یہ ہے کہ لوگوں کو ان سے مادی فائدے ملتے ہیں۔ ایک شخص نے گرو جی سے کہا کہ میں اسکوٹر خریدنا چاہتا ہوں ۔ میں نے اس کا پیسہ بھی جمع کر لیا ہے۔ گرو جی نے کہا کہ تم اسکوٹر مت خریدو۔ اس نے خرید لیا۔ جلد ہی ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ مرگیا۔ ایسا ہی واقعہ ایک اور شخص کے ساتھ ہوا۔ اس نے کار کا پیسہ جمع کیا۔ اور گرو جی کے منع کرنے کے باوجود کار خرید لی۔ وہ بھی روڈ ایکسیڈنٹ میں مر گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس طرح کے قصے سنائے ۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ گرو جی کو خاص نظر (vision) حاصل ہے۔ چنانچہ وہ جو کہہ دیتے ہیں اس پر لوگ آنکھ بند کر کے عمل کرتے ہیں۔ شانتی گری آشرم کے اس فنکشن کو اٹینڈ کرنے کے لیے جو لوگ دہلی سے گئے تھے ان میں سے دو صاحبان میرے ساتھ اسی جہاز میں تھے۔ مسٹر گوپی ناتھن اور ایک خاتون ڈاکٹر ۔ میرے سفر کا انتظام شانتی گری آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مگر مذکورہ دونوں صاحبان خود اپنے خرچ پر وہاں گئے تھے۔ یہ دونوں مڈل کلاس کے لوگ تھے۔ مگر انہوں نے ہوائی جہاز سے سفر کیا جب کہ فی کس ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ تقریباً ۳۵ ہزار تھا۔ وہاں کی تقریبات میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کس جذبہ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو کے درشن اور آشیرواد کے لیے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues