It is now closed down because of labour problem.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
طرح ہزاروں لوگ صرف درشن اور آشیرواد کے لیے دور دور سے یہاں آئے تھے۔
ٹھیک یہی مزاج خود مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ”بزرگ“ سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان کے لیے لمبے لمبے سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے درشن اور آشیرواد کے بجائے اس کا نام زیارت اور برکت رکھ لیا ہے۔
۱۹۸۰ کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے۔ ایک مسلم بزرگ مدینہ سے دہلی آئے۔ یہاں کی ایک بڑی مسجد میں ان کا قیام تھا۔ یہاں سیکڑوں لوگ اکٹھا ہو گئے۔ عوام کے علاوہ کالج اور مدرسہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ مجھ کو بھی وہاں لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ وہاں تقریر ہو رہی ہے مگر لاؤڈ اسپیکر اچھا نہ ہونے کی وجہ سے مقرر کی بات صاف سنائی نہیں دے رہی ہے ۔ ایک صاحب علی گڑھ سے آئے تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ یہاں اتنے سارے لوگ جمع ہیں۔ ایسے موقع پر اچھے لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کرنا چاہئے تھا تا کہ لوگ مقرر کی بات کو صحیح طور پر سن سکیں۔ انہوں نے میری بات کو ایک غیر اہم بات کی طرح نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ” ہم یہاں تقریر سننے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ہم تو حضرت کی زیارت کے لیے آئے ہیں“۔
یہ مزاج ہندوؤں کے لئے جتنا بے معنی ہے، مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی بے معنی ہے۔ کسی حضرت یا کسی گرو کی زیارت اور برکت کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں اور نہ اس سے کسی شخص کو کچھ مل سکتا ہے۔ پانے کا تعلق تمام تر خدا سے ہے۔ یہ سمجھنا کہ خدا کا عطیہ کسی بزرگ کے واسطے سے ملتا ہے سراسر بے اصل ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
یکم مارچ کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد کئی تعلیم یافتہ لوگ میری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے ۔ ان کی فرمائش پر میں نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں۔ میں نے کہا کہ میں پیدائشی طور پر فلسفی جیسا مزاج رکھتا ہوں۔ میں کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہوں جب کہ وہ دلائل وحقائق سے ثابت ہو جائے۔ میں نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مثلاً میں سنتا تھا کہ آدمی اگر کئی وقت تک کھانا نہ کھائے تو آنکھوں میں دھند آ جاتی ہے اور غشی طاری
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues