Al-Risala · February 2003 · page

It is now closed down because of labour problem.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

ہو جاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے باوجود نے اس کا تجربہ کیا۔

ایک بار جب میں ایک لمبے سفر پر تھا تو دو دن تک مسلسل میں نے کچھ نہیں کھایا۔ حالانکہ اس وقت میری جیب میں کافی پیسے موجود تھے۔ دو دن کے بعد جب میں میں کافی کمزوری محسوس کرنے لگا تو میں ایک ہوٹل کے اندر کھانے کے لیے داخل ہوگیا۔ اس وقت میری آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ میں ایک ایسی کرسی پر بیٹھنے لگا جس پر پہلے سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میری یہ حالت دیکھ کر لوگوں نے سمجھا کہ خدا نخواستہ میں پئے ہوئے ہوں۔ میں نے کہا کہ مذہب کے ساتھ بھی میرا معاملہ یہی ہے۔

پیدائشی طور پر میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ گویا میرا آبائی مذہب اسلام تھا۔ مگر جب میں سن شعور کو پہنچا تو میں نے اسلام کو چھوڑ دیا۔ میں ملحد بن گیا۔ اس کے بعد کئی برس تک میں سچائی کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتا رہا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ اس طرح کئی برسوں کے تلاش و مطالعہ کے بعد میں نے شعوری طور پر از سر نو اسلام قبول کیا۔

غالباً ۱۹۴۹ میں میں نے اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمہ شہادت ادا کیا۔ وہاں اور بھی کئی مسلمان موجود تھے۔ جب میں نے اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمداً عبده ورسوله کہا تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس طرح میں ایک نومسلم ہوں۔ اسلام میری ڈسکوری ہے۔

یہ ایک لمبی گفتگو تھی۔ لوگ بے حد دلچسپی کے ساتھ اس کو سن رہے تھے۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ کچھ نادان لوگ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ میں اینٹی مسلم لابی کا ایک آدمی ہوں۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں نے میرے خلاف فتویٰ بھی دے دیا ہے۔ مگر اس قسم کی باتیں لغویت کی حد تک بے اصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میری نیچر کے خلاف ہے کہ میں صرف مصلحت کے لیے یا کسی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات کہوں یا کروں۔ فطری طور پر میرا یہ مزاج ہے کہ میں صرف وہی بات کہتا ہوں جو عقلی اور منطقی طور پر مجھے درست نظر آئے۔ حتیٰ کہ اگر مجھے ایک بات درست نظر آئے تو میں ساری دنیا کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page