Al-Risala · February 2003 · page

It is now closed down because of labour problem.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

نظرانداز کر کے اس کا اعلان کروں گا۔ یہ میرے بس سے باہر ہے کہ کوئی بات صرف اس لیے کہوں کہ لوگ ایسا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے کئی عملی مثالیں دیں۔

میں نے کہا کہ ۱۹۹۰ء میں ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تو دنیا بھر کے تمام مسلمان اس کی تائید کرنے لگے۔ اس وقت میں نے تنہا یہ اعلان کیا کہ یہ فتویٰ غلط ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہمیں قلم کا جواب قلم سے دینا ہے۔ قلم کا جواب گولی سے دینا ایک غیر اسلامی بات ہے۔ یہ اسلام کی توہین ہے کہ اس کی طرف ایسا نظریہ منسوب کیا جائے۔ اسی طرح انڈیا کے تقریباً تمام ہندو کامن سول کوڈ کے حامی ہیں۔ مگر میں نے اس کے خلاف تفصیلی مقالہ لکھا اور اس کو ملک کے بہت سے اخبارات اور میگزین میں چھپوایا۔ اس کو کتاب کی صورت میں بھی مختلف زبانوں میں چھپوایا۔ جلسوں میں اس موضوع پر تقریریں کیں۔ اسی طرح انڈیا کے تقریباً تمام ہندوسا سیت کی حد تک کنورژن کے خلاف ہیں۔ مگر میں نے ہندو مزاج کے خلاف کنورژن کے مسئلہ پر اخباروں میں بیانات دئے۔ ٹی وی پر اس کے خلاف کہا۔ جلسوں میں اس کے خلاف تقریر کی۔ کنورژن کی حمایت میں میں نے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس کو دوسرے کئی میگزین کے علاوہ خود آر ایس ایس کے انگریزی میگزین پرجنا (Parajna) میں چھپوایا۔ ملاحظہ ہو پرجنا (Parajna) کا شمارہ اپریل۔ جون، ۱۹۹۹ء۔

میں نے کہا کہ میں کسی ملکی یا غیر ملکی لابی کا ترجمان نہیں۔ البتہ میں سچائی کا ترجمان ہوں۔ میں عین اپنے مزاج کے مطابق، ہر بات کو دلائل و حقائق کی روشنی میں دیکھتا ہوں۔ اس کا علمی تجزیہ کرتا ہوں ۔ ہر اعتبار سے اس کا بے لاگ جائزہ لیتا ہوں۔ اور پھر جو بات مجھے حق نظر آتی ہے اس کو لکھتا اور بولتا ہوں۔ اپنے ضمیر کے خلاف کسی کا حامی یا ترجمان بننا میرے لئے ممکن ہی نہیں۔ کیرلا ایک بے حد سرسبز اور خوبصورت علاقہ ہے۔ شانتی گری آشرم میں کیرلا کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ کیرلا کی اسی خوبصورتی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کیرلا خدا کا اپنا ملک ہے: Kerala is God's own country.

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page