It is now closed down because of labour problem.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
مگر ساحلی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا میں رطوبت (moisture) ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے پھول میں گویا ایک کانٹا لگا ہوا ہے۔ یہی موجودہ دنیا کی تمام اچھی چیزوں کا حال ہے۔ کامل آرام یا کامل خوشی کسی کو اس دنیا میں نہیں مل سکتی۔ کامل مسرت صرف آخرت ہی میں ممکن ہے۔ ۲ مارچ ۱۹۹۹ کو صبح چار بجے کا وقت ہے۔ میں بستر سے اٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ میرے چاروں طرف کامل سناٹا چھایا ہوا ہے۔ بظاہر اس وسیع دنیا کے تمام لوگ اپنے بستروں پر سورہے ہیں۔ اتنے میں دور سے چڑیا کی آواز سنائی دی۔ میں نے سوچا کہ اس طرح ایک دن آئے گا جب کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان اپنے گھروں میں سکون کی سانس لے رہے ہوں گے کہ اچانک خدا کی آواز آئے گی۔ قیامت کا زلزلہ پوری دنیا کو ہلا دے گا۔ لوگ پکار اٹھیں گے۔ یہ کیا ہوگیا، کیا نجات کی کوئی صورت ہے۔ مگر جب قیامت آجائے گی تو وہ دوبارہ واپس نہ ہو سکے گی۔ آج کے سرکش اس دن سراپا عجز کی تصویر دکھائی دیں گے۔ آج حقیقت کا اعتراف نہ کرنے والے اس دن اعلان کے ساتھ حقیقت کا اعتراف کریں گے۔ آج جو لوگ دوسروں کا احتساب لینے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں اس دن انہیں اپنے احتساب کے سوا اور کچھ بھی یاد نہ ہوگا۔ اس دن ہر آدمی مان رہا ہوگا، مگر اب ماننے کا کیا فائدہ۔
۲۸ فروری کی شام کو آ شرم میں کئی مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک مسٹر محی الدین خاں تھے۔ وہ ٹریونڈرم کے ایک اسکول میں استاد ہیں۔ انہوں نے میری کتاب خاتونِ اسلام انگریزی میں پڑھی ہے۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں مارکسسٹ ہوں۔ میں نے پوچھا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی آپ مارکس کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ سوویت یونین میں جس چیز کا خاتمہ ہوا ہے وہ مارکسی آئیڈیالوجی نہیں ہے بلکہ روسی کمیونسٹ پارٹی کی غلط پالیسیاں ہیں۔ میں نے کہا کہ مگر ایک بات بالکل واضح ہے۔ وہ یہ کہ مارکس نے تاریخی ناگزیریت کا نظریہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ خود تاریخ کے ناگزیر عمل کے نتیجہ میں ایسا ہوگا کہ سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ جائے گا اور اس کی جگہ اشتراکی نظام قائم ہوگا۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues