Al-Risala · February 2003 · page

It is now closed down because of labour problem.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

سب خود ناگزیر تاریخی قانون کے تحت ہو گا۔ ایسی حالت میں کمیونسٹ فلسفہ کے تحت سرمایہ دارانہ نظام کو ٹوٹنا چاہئے تھا۔ مگر برعکس طور پر خود اشتراکی نظام ٹوٹ گیا۔ یہ واقعہ مارکس کے نظریہ کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ذرا فلاں پروگرام میں جانا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلے گئے ۔ وہ اردو نہیں جانتے تھے۔ یہ گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی۔

عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کو غلط نہ ماننے کے لیے بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ شخصیتوں سے برتر ایک چیز ـــــ قانون فطرت کا انکار کر رہے ہیں۔ یہی حال موجودہ زمانہ کے بعض مسلم مفکرین کے پرستاروں کا ہے۔ ان مسلم مفکرین کے نظریات مکمل طور پر فیل ہو گئے ۔ مثلاً ریلوے انجن پر قبضہ کرنے کے باوجود ٹرین کا اپنی سابقہ سمت پر چلتے رہنا۔ مگر ان شخصیتوں کے پرستار مختلف قسم کی بے اصل توجیہیں کر کے کوشش کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت بدستور محفوظ رہے۔

یہاں بڑی تعداد میں لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں زیادہ تر ہندو تھے۔ تا ہم ان میں مسلمان بھی قابل لحاظ تعداد میں تھے۔ ہر گفتگو کے بعد میں نے محسوس کیا کہ لوگ عام طور پر ذہنی جمود میں مبتلا ہیں ۔ اس کی مشترک وجہ یہ ہے کہ ہر ایک نے کسی نظریہ یا کسی شخصیت کو نو جوانی میں اپنایا۔ پھر وہ اس پر جم گیا۔ اب وہ نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح ہر ایک یہ یقین لئے ہوئے ہے کہ ’’ میرا انتخاب درست تھا‘‘، مگر یہی یقین ہر ایک کے لیے زیادہ بہتر سچائی کو پانے میں رکاوٹ بن گیا۔

ایک نو جوان سردار سکھبیر سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ راجستھان کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ ازم اسلام کے زیادہ نزدیک ہے۔ کیوں کہ یہ کسی دیوی دیوتا، وغیرہ کی پوجا نہیں کرتے۔ یہ کسی دوسرے کے آگے سر نہیں جھکاتے ۔ یہ دونوں اپنے دھارمک گرنتھ قرآن اور گر وگرنتھ صاحب کے حکم کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ سکھ دھرم کے گرنتھ ( گرو گرنتھ صاحب) میں صرف دھارمک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page